ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 5 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 5

ابن سلطان القلم ~ 5 ~ اس خاندان کے ممبر مغلیہ حکومت کے ماتحت معزز عہدوں پر مامور رہے اور جب مغلیہ خاندان کو ضعف پہنچا اور پنجاب میں طوائف الملو کی پھیل گئی تو یہ خاندان ایک آزاد حکمران کے طور پر قادیان کے ارد گرد علاقہ پر، جو تقریباً ساٹھ میل کا رقبہ تھا، حکمران رہا لیکن سکھوں کے وقت میں اس ریاست کی حالت ایسی کمزور ہو گئی کہ سب علاقہ اس خاندان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور بالآخر قادیان پر بھی سکھ قابض ہو گئے اور اس خاندان کے لوگ ریاست کپور تھلہ میں چلے گئے جہاں تقریباً سولہ سال مقیم رہے۔اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا زمانہ آگیا اور اُنھوں نے سب چھوٹے چھوٹے راجوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس انتظام میں اس خاندان کو بھی ان کی جاگیر کا بہت کچھ حصہ واپس کر دیا۔پھر جب انگریزی حکومت نے سکھوں کی حکومت کو تباہ کیا تو ان کی جاگیر ضبط کر لی گئی، مگر قادیان کی زمین پر ان کو مالکیت کے حقوق دیے گئے۔اُس وقت اس خاندان کے سر براہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب رئیس قادیان تھے۔ان کی وفات (۱۸۷۶ء) کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے جناب مرز اغلام قادر صاحب جانشین ہوئے۔ان کا ایک بیٹا تھا جو کمسنی میں فوت ہو گیا۔اُنھوں نے اپنے بھتیجے صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو اپنا متبنی کر لیا۔پیدائش حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر ابھی تقریباً سولہ برس تھی جب آپ کی پہلی شادی اپنے حقیقی ماموں جناب مرزا جمعیت بیگ صاحب کی صاحبزادی ا سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام، تصنیف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی۔صفحہ ۱ تا ۵