ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 196 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 196

ابن سلطان القلم ~ 196 ~ سکتے ہیں اور ان کی کیفیت یہی ہو سکتی ہے۔میرے خیال میں الفاظ جدید وضع تو ہو سکتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کا بر محل استعمال بھی ہو سکتا ہے، مگر یہ کام ذرا مشکل ہے۔جس طرح الفاظ متروک پر نکتہ چینی ہوتی ہے اسی طرح الفاظ جدید پر بھی ہو گی اور بات کہسائی میں جا پڑے گی۔ایک دفعہ ایک دوست نے ”اور کوٹ “ کا ترجمہ ”اپریلہ “ کیا اور ہمیشہ یہی استعمال کرتے رہے۔خط و کتابت میں بھی یہی لکھا پڑھا۔ان کے حلقہ میں تو یہ سکہ چل گیا، مگر اکثر نے اعتراض کیا۔ترجمہ تو کسی حد تک درست ہے، کیونکہ ”اور کوٹ“ کے او پر اور کوئی کپڑا نہیں ہوتا اور لفظ ” اپریلہ “ ایک وسعت کے ساتھ یہی مفہوم ادا کر رہا ہے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ ”میرا اپریلہ لاؤ“۔اپریلہ پہنا دو“۔اپریلہ سی دو“ تو لوگ پہلے پہل نکتہ چینی کریں گے ، مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس دوست کے رفتہ رفتہ نوکر چاکر کنبے والے اس نام سے قریباً ایسے ہی مانوس ہو گئے جیسے ”اور کوٹ“ سے تھے۔جدید الفاظ میں موزونیت اور جامعیت بھی ہونی چاہیے۔میری رائے میں اپریلہ اور کوٹ سے کم موزوں اور کم جامع نہیں ہے۔اگر یہ لفظ رفتہ رفتہ بولنے اور لکھنے پڑھنے میں آجائے تو اس میں کیا نقص ہے۔بجز اس کے کہ اہل زبان کے زبان زد نہیں ہے یا ان کی زبان میں نہیں پایا جاتا۔بے شک اس کا کوئی جواب نہیں، مگر اس سے اس قدر تو ثابت ہو گیا کہ بڑے بھلے جدید الفاظ وضع ہو سکتے ہیں۔تو وضع الفاظ جدید کی صورت ایک نہیں ہے۔کبھی کسی پہلے لفظ کی شان ملحوظ رکھ کر ایک جدید لفظ وضع کیا جاتا ہے اور کبھی محض جدید۔دیکھو تابع مہمل الفاظ چیز ویز، کام وام وغیرہ وغیرہ پہلے لفظوں کی شان کے اعتبار پر وضع ہوئے ہیں اور بولے بھی جاتے