ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 195 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 195

ابن سلطان القلم ~ 195 ~ بولی جاتی ہیں۔وہ زندہ زبانیں، جن کا ذخیرہ الفاظ ہر رنگ میں دن بدن ترقی پارہا ہے ، اردو زبان کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔اگر ہم یہ ضرورت نہیں رکھتے یا اردو اس سے مستغنی ہو چکی ہے تو پھر یہ بحث یہیں ختم ہو جاتی ہے، لیکن یہ ضرورت ختم ہوتی نظر نہیں آتی، بلکہ ہر رنگ میں اس قدر الفاظ جدیدہ اور مصطلحات مروجہ دن بدن رواج پارہے ہیں کہ ان سے احتراز اور استغنا کوئی معنے نہیں رکھتا۔ایک طرف اس قدر آمد ہے اور دوسری طرف ایسا سامان کوئی نہیں کہ ان کا کسی رنگ میں خیر مقدم کیا جائے۔(۱) اہل زبان و اہل مذاق میں سے بعض اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو دائرہ اردو سے باہر نہ نکلا جائے کیونکہ زبان دوغلی ہو جاتی ہے۔(۲) بعض یہ کہتے ہیں کہ خود ہی جدید الفاظ اور جدید اصطلاحات کی بنیادر کھی جائے (۳) بعض کا یہ خیال ہے عمل تعریب و تفریں کو وسعت دی جائے۔(۴) بعض کی رائے ہے کہ دوسری علمی زبانوں کے بعض اصلی الفاظ اور اصلی مصطلحات لے لیے جائیں۔بظاہر اس اربعہ عناصر کی ہر رنگ میں ضرورت ہے مگر یہ فیصلہ کون کرے کہ ان میں سے کون سی غالب اور مقدم شق ہے اور کون سی نہیں۔جتنی تجویزیں اوپر بیان ہوئی ہیں وہ اپنی اپنی جگہ پر سب کی سب ضروری اور مناسب اور موزوں معلوم ہوتی ہیں۔اگر اردو اپنے زور پر خود ہی جدید الفاظ اور جدید اصطلاحات کی موجد ہو سکتی ہے تو ازیں چہ بہتر ! آپ اس میدان ہی میں قدم زن ہو کر دیکھ لیجیے، مگر یہ طریق اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ اردو میں جدید الفاظ وضع ہو