ابنِ سلطانُ القلم — Page 71
ابن سلطان القلم ~ 71 - معلوم ہوا، کیونکہ خدا کے مقابلہ میں کسی رسول سے زیادہ محبت ہو ہی کس " طرح سکتی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ کہنے لگے اگر یہ سٹیشن کا قانون پہلے نکلتا تو ہمارے والد صاحب ضرور قید ہو جاتے کیونکہ انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان قائم رکھنے کے لیے کسی مصیبت کی بھی پروا نہیں کرنی تھی۔اس قسم کے الفاظ ممکن ہے محبت کی وجہ سے اُن کے منہ سے نکلے ہوں مگر ایسے الفاظ ہم لوگوں کے مونہوں سے جو مامورین کی حقیقی قدر و منزلت جانتے ہیں کبھی نہیں نکل سکتے۔غرض الہام الہی کا ادب اور وقار احمدیت کی حد تک ان کے دل میں نہ تھا۔اگرچہ وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جھوٹے نہیں۔ایسی قلبی کیفیت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی اور ایسے وقت میں دی کہ صاف طور پر وہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان معلوم ہوتا ہے۔دسمبر ۱۹۳۰ء میں انھوں نے بیعت کی اور چھ مہینوں کے بعد وہ فوت ہو گئے، سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ ان کی بیعت الہی تصرف کے ماتحت ہوئی۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ اب یہ جلدی فوت ہو جانے والے ہیں اس لیے اگر انھوں نے بیعت نہ کی تو ایک مخزیہ رہ جائے گی۔پس خدا نے انھیں بیعت میں جس داخل کر کے اس مخزیہ کو بھی دور فرما دیا۔اس سے پہلے بعض دوست جب انھیں بیعت کے لیے کہتے تو وہ یہی جواب دیتے کہ میں یہ تو سمجھتا ہوں کہ سلسلہ سچا ہے مگر مجھے اس بات سے