ابنِ سلطانُ القلم — Page 201
۔ابن سلطان القلم ~ 201 - ~ ہیں۔جس طرح اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ مخلوط ہیں اور بولے جاتے ہیں ، اسی طرح پنجابی میں بھی مخلوط ہو کر بولے جا رہے ہیں۔جس طرح بھاشا اور سنسکرت کے الفاظ اردو میں مل گئے ہیں اور بولے جاتے ہیں اسی طرح پنجابی کی کیفیت ہو رہی ہے۔اس پنجابی کی مثال ہی سے یہ پتا لگ سکتا ہے کہ السنہ غیر کے الفاظ اردو کس وسعت اور کس خوبی سے قبول کرتی ہے۔اور تعریف یہ ہے کہ اردو زبان غاصب نہیں ہے۔اگر چہ پنجابی، عربی، فارسی اور سنسکرت کچھ کچھ غاصب ہیں، مگر اردو زبان میں ہر غیر زبان کا لفظ اسی حیثیت سے مستعمل ہوتا ہے جیسے کہ خود اپنی اصلی زبان میں۔یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اردو زبان الفاظ السنہ غیر کا کس خوبی سے خیر مقدم کرتی ہے اور کہاں تک جامعیت رکھتی ہے۔بے شک کسی زبان کے واسطے یہ ایک کمی ہے کہ اس کا ذخیرہ لفظی بہت کچھ السنہ غیر کا محتاج ہو، لیکن یہ ایک مجبوری ہے اور اردو کے مقابلہ میں بعض دوسری زبانیں بھی اس نقص سے خالی نہیں ہیں۔مثلاً انگریزی زبان کا ذخیرہ الفاظ قریباً فیصدی تیں پینتیس السنہ غیر کا محتاج ہے اور اس بد صورتی سے کہ الفاظ السنہ غیر کی صورت ہی انگریزی زبان میں مسخ ہو جاتی ہے۔اگر الفاظ السنہ غیر کو انگریزی میں سے نکال دیا جائے تو وہ قریباً ایک مفلس زبان ہو جائے گی۔بالخصوص اصطلاحاتِ علمیہ کا تو بہت کچھ حصہ السنہ غیر سے وابستہ ہے۔زبانیں دو قسمیں رکھتی ہیں: (الف) السنہ ابتدائی۔(ب) السنہ مابعدی