ابنِ سلطانُ القلم — Page 200
ابن سلطان القلم ~ 200 ~ دونوں کو پڑھو اور کہو کہ ان میں کہاں تک مغائرت ہے۔میری رائے میں پنجابی کے رقعہ کے پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اردو میں بعض الفاظ کی اصلاح کی گئی ہے یا ان کا تلفظ کسی اور رنگ میں رکھا گیا ہے۔دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ پنجابی ہی سے اردو بنی ہے اور پنجاب ہی اردو کی پہلی منزل ہے۔مثلاً : تسی کی جگہ تم اوپر کی بجائے پر وچ کی جگہ میں وگڑ کی جگہ بگڑ نال کی جگہ ساتھ چاہنا کی جگہ چاہتا کم کی جگہ کام جاندے کی جگی جانتے ہور کی جگہ اور ٹھل کی جگہ دیر چھیتی کی جگہ جلدی جیو کر کی جگہ جیسے استھوں کی جگہ اس سے آؤن کی جگہ آنے واری کی جگہ باری تھوں کی جگہ سے سی کی جگہ تھا سہنیا کی جگہ پیغام ہن کی جگہ اب ان انیس الفاظ کے مقابلہ سے آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ پنجابی اور اردو الفاظ میں کہاں تک لفظی اور تلفظی اتحاد ہے۔اور ایک ادنی تغیر سے کس آسانی سے پنجابی الفاظ اردو کا جامہ پہن لیتے ہیں۔ان انیس الفاظ کے سوا جو الفاظ ہیں وہ گو یا اردو ہی ہیں۔اور وہ جیسے اردو میں بولے جاتے ہیں ایسے ہی پنجابی میں بھی استعمال کیے جاتے