ابنِ سلطانُ القلم — Page 194
ابن سلطان القلم ~ 194 ~ آپ کا ایک مضمون بعنوان ”اردو زبان“: حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کی قوت و شوکت تحریر اور مضمون نگاری کے بارہ میں مختلف رسائل و اخبارات کے تبصرے اور آراء پڑھ کر قاری میں بالطبع اس بات کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی تحریرات کا کوئی نمونہ بھی دیکھے۔بعض بزرگان جیسے محترم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب اور محترم ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب نے بھی یہی صلاح دی کہ اگر زیادہ نہیں تو کم از کم آپ کا ایک مضمون تو ضرور شامل کتاب ہونا چاہیے۔مگر اس میں ایک مشکل یہ تھی کہ آپ کا کون سا مضمون منتخب کیا جائے، کیونکہ آپ کے مضامین میں اس قدر تنوع ہے کہ کوئی شعبہ علم ایساد کھائی نہیں دیتا جس میں آپ نے کچھ نہ کچھ رقم نہ فرمایا ہو ، لیکن کتاب کا حجم زیادہ مضامین کا متحمل نہیں۔لہذا بطور نمونہ از خروارے آپ ایک مضمون بعنوان ” زبان اردو ہدیہ قارئین ہے۔یہ یہ مضمون رسالہ ”مخزن لاہور ، جون ۱۹۱۹ میں شائع ہوا۔آپ لکھتے ہیں: اردو زبان اگر زبانِ اردو کی وسعت کے واسطے خود اردو ہی علمی الفاظ یا علمی اصطلاحات کا ذخیرہ مہیا کر سکے تو اس سے زیادہ تر خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور اگر اپنی ہمسایہ زبانوں فارسی، عربی اور سنسکرت و بھاشا سے بعض الفاظ لے لیے جائیں تو یہ بھی کوئی برائی نہیں، لیکن بحث تو یہ آپڑتی ہے کہ اب اردو صرف اپنی ہمسایہ زبانوں ہی کی محتاج نہیں بلکہ زیادہ تر ان زبانوں کی ہے جو ہندوستان سے باہر یورپ اور جاپان کے ملک اور اقوام میں