ابنِ سلطانُ القلم — Page 150
ابن سلطان القلم ~ 150 ~ امر تسر اور اگنی ہوتری کا رسالہ ہندو بندو” اور اخبار “منشور محمدی” منگایا اور پڑھا کرتے تھے اور موخر الذکر میں کبھی کبھی کوئی مضمون بھی بھیجا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آخری عمر میں حضرت صاحب اخبار عام لاہور منگایا کرتے تھے۔(۲۳) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ بٹالہ کے راجہ تیجا سنگھ کو ایک خطرناک قسم کا پھوڑا نکلا بہت علاج کیے گئے اور (خدا کے فضل سے) وہ اچھا ہو گیا۔اس پر راجہ مذکور نے دادا صاحب کو ایک بڑی رقم اور خلعت اور دو گاؤں شتاب کوٹ اور حسن پور یا حسن آباد جو آپ کی قدیم ریاست کا ایک جزو تھے پیش کیے اور ان کے قبول کرنے پر اصرار کیا مگر دادا صاحب نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ میں ان دیہات کو علاج کے بدلے میں لینا اپنے اور اپنی اولاد کے لیے موجب ہتک سمجھتا ہوں۔(۲۴) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ دادا صاحب نہایت وسیع الاخلاق تھے اور دشمن تک سے نیک سلوک کرنے میں دریغ نہ کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جوتی ولد دولہ برہمن جس نے ایک دفعہ ہمارے خلاف کوئی شہادت دی تھی بیمار ہو گیا تو دادا صاحب نے اس کا بڑی ہمدردی سے علاج کیا اور بعض لوگوں نے جتلایا