ابنِ سلطانُ القلم — Page 86
ابن سلطان القلم ~ 86 ~ مالک تھے اور خوب سمجھتے تھے کہ اسلام کی روح جو اُن کے گرانقدر والد مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ روح مسلمانوں میں مفقود تھی اور خود مرزا سلطان احمد صاحب پر بھی ماحول نے اثر ڈالا ہوا تھا اور وہ اپنے آپ کو ان نقوش پر جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلانا چاہتے تھے کہ بندہ دنیا نہ رہے بلکہ بندہ خدا بن جائے، پر چلنے سے عاری سمجھتے تھے لیکن آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس استغنا سے بھی واقف تھے کہ خدا کی راہ میں حائل ہونے والے کو خواہ وہ حضور کا جگر گوشہ ہی کیوں نہ ہو ذرہ بھر وقعت نہ دی جائے۔یہی وجہ ہے کہ آپ گوشہ تنہائی اور دور رہنے میں عافیت سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود ہر آن حضور کے حکم کی جو کاروبار دنیا کے متعلق ہوں تعمیل کرنے کو حرز جان سمجھتے تھے اور حضرت اقدس کی شخصیت کے متعلق نہایت غیرت رکھتے تھے۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جبر کے سخت خلاف تھے، بلکہ آپ کی ماموریت کا کارنامہ ہی یہ تھا کہ لوگوں کو اسلام کا حسین چہرہ دلائل، حسن اخلاق اور نور سماوی کی جھلک کے ذریعے دکھلائیں۔حضور ہر گز یہ گوارہ نہ فرماتے تھے کہ اپنے بیٹے کو جبری حکم کے ذریعے اسلام کے جملہ احکام کا پابند فرمائیں۔یہی وجہ ہے کہ باپ اور بیٹے میں بُعد جاری رہا۔حتی کہ حضرت اقدس کا وصال ہو گیا اور احمدی دنیا اور دوسرے لوگ یہی سمجھتے رہے کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب احمدیت کے قائل نہیں لیکن خدائے علیم