ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 92 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 92

ابن سلطان القلم ~ 92 ~ تھے۔ہم حضور کو اس وقت میاں صاحب کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ہمارا قیام فقیر افتخار الدین صاحب کے گھر پر تھا۔بارات جب لاہور سے روانہ ہو کر بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے ہمیں لینے کے لیے دو رتھ بھجوائے ہوئے تھے۔یہ ایک قسم کی پہلی ہوتی تھی جس کے دو بڑے بڑے پیسے ہوتے تھے اور بیل پا کرتے تھے) ان دنوں ابھی قادیان تک ریل نہیں گئی تھی۔جب ہم قادیان پہنچے تو حضرت والد صاحب نے فرمایا کہ دُلہن کو گھر لے جانے کی بجائے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے پاس لے جاؤ اور دعا کے لیے جاؤ۔چنانچہ۔۔۔والد صاحب کے ارشاد کی تعمیل کر دی۔' حضرت اماں جان سے دعا کی درخواست: آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازہ اور تدفین میں شمولیت کے بعد حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”میری بعض ذاتی غلطیاں تھیں جن کی وجہ سے میں پیچھے رہا، ورنہ میں نے کبھی حضرت کی مخالفت نہیں کی اور میں نے سنا ہے کہ بعض نادان لوگوں کا خیال ہے کہ میں جائیداد وغیرہ کے متعلق جھگڑا کرنا چاہتا ہوں، سو یہ بالکل غلط ہے۔میں کوئی ا روز نامه الفضل ربوه ۲۲/ اپریل ۱۹۷۳ء