ابن رشد

by Other Authors

Page viii of 161

ابن رشد — Page viii

مقدمه فلسفہ و حکمت میں مشرقی خلافت میں فارابی اور ابن سینا کو فضلیت کا جو مرتبہ حاصل ہے، مغربی خلافت میں اسی بلند ترین منصب کا حامل اور اپنے لازوال کارناموں کی وجہ سے ہمیشہ زندور بنے والا نام ہے۔اس کا شمار اسلامی دنیا کے عظیم فلاسفہ میں کیا گیا ہے۔دوسرے مسلمان فلاسفہ کے درمیان کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ نہ صرف فلسفہ و حکمت اور طب و سائنس کی ایک گرامی منزلت شخصیت ہے، بلکہ دینی علوم بالخصوص فقہ میں اپنی مہارت کی وجہ سے ممتاز دینی عالموں کی صف میں شامل ہے، وہ حقیقی معنی میں جامع العلوم تھا۔علوم عقلیہ اور علوم نقلیہ سے اپنے تعلق خاص ہی کی بناء پر زندگی بھر ایک کشمکش میں مبتلا رہا۔بلاد مشرق کے برخلاف مغرب کی اسلامی مملکت میں جس کا دارالخلافہ قرطبہ تھا، فلسفہ کی عام طور پر حوصلہ افزائی اور سر پرستی نہیں کی گئی تھی۔وہاں فلسفہ کی تحصیل آسانی نہ تھی۔مذہبیت کا اس قدر غلبہ تھا کہ بعض حکمرانوں کے عہد میں نہ صرف فلاسفہ کی کتابیں جلائی گئیں بلکہ وہ خود مورد عتاب اور ستحق مز اقرار پائے۔کو بھی اس آزمائش سے گزرنا پڑا اور ذلت ورسوائی اور قید و بند کی صعوبتیں اس کا مقدر بنیں۔لیکن اس کے باوجود اندلس میں فلسفہ کا مطالعہ جاری رہا اور وہاں عمر بن یونس ، ابن حزم، ابن الکتانی، محمد بن عبدون جیلی ، ابوسلیمان محمد بن ظاہر سیستانی، ابوبکر احمد من جابر ، احمد بن حکم محمد ابن میمون ، ابن ماجه، این فیل، جیسے فلسفی پیدا ہوئے۔مشرقی فلاسفہ فارابی ، کندی اور ابن سینا سے ابن باجہ، ابن طفیل اور کا درجہ کسی طرح کم نہیں ہے۔این رشد بنیادی طور پر عقلیت پسند تھا اور نظام طبعی پر پورا یقین رکھتا تھا۔لیکن وہ اسلامیات کا بھی ماہر تھا اور فقیہ اور قاضی کی حیثیت سے اس کی شخصیت مسلمہ تھی۔اس کی ذہنی مشکل کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ مذہب اور فلسفہ کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا تھا اور انہیں ایک دوسرے کا مقابل نہیں سمجھتا تھا۔مذہبی عقائد میں پختگی اور سائنس وفلسفہ سے اپنے گہرے رشتہ کی وجہ سے اس نے مقدور بھر کلانی مباحث پر توجہ مبذول کی اور فلسفہ و مذہب کے درمیان اختلافی مسائل میں تطبیق کی کوشش کی۔اس کے نزدیک فلسفہ اور شریعت باہم متصادم نہیں ایک دوسرے کے ممد و معاون ہیں۔(i)