ابن رشد

by Other Authors

Page 120 of 161

ابن رشد — Page 120

باب ششم کے نظریات یورپ میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور حیات ثانیہ کے ذکر سے لبریز ہے۔وہ عقلیت کا زبردست نقیب تھا۔سات سو سال تک عالم اسلام میں گمنام رہا۔اس کی تصنیفات اصل عربی زبان میں اس وقت یورپ سے شائع ہونا شروع ہوئیں جب 1859 ء میں ایم جے میولر ( MJ۔Muller) نے میونخ سے فصل المقال اور کشف الادلہ کو ایک مجموعے کی صورت میں طبع کرایا۔اس کے بعد 1875ء میں بورین اکیڈیمی (Bavarian Academy) نے یہی دو کتابیں میولر کے جرمن ترجمے کے ساتھ شائع کیں۔پھر عربی میں یہ قاہرہ سے 95-1894 ء میں شائع ہوئیں۔اس کا فرانسیسی ترجمہ و تعییر (Gauthier) نے 1905ء میں کیا جبکہ انگریزی ترجمہ جمیل الرحمن نے کیا جو بزودہ (ہندوستان ) سے 1921ء میں شائع ہوا۔حیدرآباد سے ایک شاندار کتاب رسائل 1947ء میں منظر عام پر آئی جس میں چھ کتابوں کی تلا حیص شامل ہیں۔جیسا کہ ذکر کیا گیا کی تصانیف کی تعداد 87 سے زیادہ ہے۔ان کتابوں کی اکثریت اسکور یال (اسپین) کے کتب خانے میں موجود ہے۔تاہم اس کے علاوہ اس کی کتابیں امپیریل لائبریری پیرس، بوڈلین لائبریری ( آکسفورڈ) ، لانش این لائبریری ( فلارنس، اٹلی) دی آنالائبریری ( آسٹریا)، ساربون (فرانس) اور لائیڈن (ہالینڈ) میں موجود ہیں۔پیرس اور ( بوڈلین ) آکسفورڈ میں بعض ہاتھ سے لکھے عربی نسخے عبرانی رسم الخط میں لکھے ہوئے ہیں جن سے یہودی عالم استفادہ کیا کرتے تھے۔کی اصل عربی کتابوں کے مخطوطات یورپ میں کم ہیں لیکن ان کے لاطینی اور عبرانی تراجم یورپ کے تمام قابل ذکر کتب خانوں میں موجود ہیں۔تھافتہ النصاف کا لاطینی ترجمہ 13238ء میں کیا گیا کہتے ہیں کہ عبرانی زبان میں توریت کے بعد کی تصنیفات سے زیادہ کسی اور مصنف کی کتابوں کی اشاعت نہیں ہوئی۔کی کتابوں کے لاطینی تراجم جو 1480 ء سے لے کر 1580ء تک سو سال کے عرصہ میں منظر عام پر 120