ابن رشد — Page 109
ہوئے۔(فصل المقال صفحه 6)-(45) خدا تعالیٰ کے علم کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں خداوند تعالیٰ نے اپنے وجود پر دو قسم کے بین دلائل فراہم کئے ہیں: ایک کا نام دلیل عنالیہ اور دوسرے کا نام دلیل اختراع ہے۔(1) دلیل عالیہ کی بنیاد دو اصولوں پر ہے ایک یہ کہ دنیا کی تمام اشیاء انسانی ضروریات اور انسانی مصالح اور فوائد کے موافق ہیں دوسرے یہ موافقت اتفاق نہیں بلکہ اس کو ایک ذی ارادہ ہستی نے پیدا کیا ہے۔پہلے اصول کے مطابق دنیا کی اہم چیزوں مثلا دن، رات، سورج، چاند، نباتات، جمادات پر غور و فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کے لئے کس قدر مفید ہیں۔اس لئے جو خدا کے وجود کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے موجودات کا مطالعہ اور تحقیق (ریسرچ ) ضروری ہے۔(2) دلیل اختراع کی بنیاد بھی دو اصولوں پر ہے ایک یہ کہ تمام کائنات مخلوق ہے اور دوسرا یہ کہ جو چیز مخلوق ہے اس کا ضرور کوئی خالق ہے۔اس کے لئے جو اہر اشیاء کی حقیقت جاننا ضروری ہے۔خدا تعالی کے علم کے بارے میں اس نے کہا کہ خدا کا علم انسانی علم جیسا نہیں ہے۔یہ علم کی ایسی اعلیٰ وارفع قسم ہے جس کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔خدا کے علم میں اور کوئی ہرگز شریک نہیں۔خدا کا علم اشیاء سے اخذ نہیں ہوتا۔جہاں تک روح کے غیر فانی ہونے کا تعلق ہے اس کا نظریہ تھا کہ روح اور عقل ( intellect ) میں فرق کرنا چاہئے۔عقل انسان میں دو چیز ہے جس کے ذریعہ انسان حواس خمسہ کے بغیر حقائق اور صداقتوں کا شعور حاصل کرتا ہے۔عقل فعال اور مادی عقل میں وہی فرق ہے جو صورت کا مادہ سے ہے۔عقل فعال روح کے اندر قوت ہے جو تمام انسانوں میں مشترک اور ازل سے ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ہر نبی فلسفی ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر فلسفی نبی بھی ہو۔نبوت اور فلسفہ میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ فلسفہ نام ہے حقیقت کی جستجو کا اور نبوت نام ہے کشف حقیقت کا فلسفی تو حصول علم میں لگارہتا ہے جبکہ نبی حقیقت سے آشنا ہو کر دوسروں کو علم سکھاتا ہے، وہ حسن عمل کے حسین و سر در انگیز ثمرات کی خوشخبری دیتا ہے اور برے اعمال کے حزن آفرین نتائج سے ڈراتا ہے۔نبی کو غیر معمولی قلب سلیم ودیعت کیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ بغیر خارجی تعلیم کے اشیاء کا علم از خود حاصل کر لیتا ہے۔یعنی اس کے علم کا سر چشمہ اس کی عقل سلیم ہوتی ہے۔لیکن کشف والہام ہونے سے پہلے فلسفیانہ تفکر لازمی شرط ہے۔اس شکل میں ہر نبی فلسفی ہوتا ہے۔انبیاء کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کی عقل کا منبع قوت قدمی ہوتی ہے جس کے ادراک کا نام وحی ہے۔یادر ہے کہ وحی ، الہام اور رویائے صادقہ علم ایزدی کے اجزاء ہیں۔انبیاء حقائق کا مشاہدہ اپنی قوت قدسی کے ذریعہ کرتے ہیں جن کا اور اک عام لوگ نہیں کر سکتے۔109۔