ابن رشد — Page 108
اصولوں میں تطبیق کی پوری پوری کوشش کی۔گویا اسلام اور عقلیت کے مابین مفاہمت اور مطابقت کا وہ سب سے بر اعلمبردار تھا۔در حقیقت بنیادی طور پر وہ نہایت مذہبی انسان تھا قرآن و حدیث پر مکمل عبور رکھتا تھا اسی لئے اس کی تحریروں میں قرآن وحدیث کے حوالے جابجا ملتے ہیں۔قرآن پاک کی وہ آیات جو متشابہات میں شمار ہوتی ہیں ان کی تاویل(interpretation) کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ان آیات کریمہ کی تاویل وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید (3:7 ) میں ہوا ہے و ما يعلم تاويله الا الله والراسخون فی العلم ، اس کے نزدیک فلاسفہ ہی علم میں راسخ ہوتے ہیں اس لئے وہی ان کی صحیح تاویل کرنے (ٹھیک مطلب بتانے ) کے حقدار ہیں۔یا قرآن حکیم کی ایسی آیات مبارکہ جن میں خدا کے عرش پر قائم ہونے کا ذکر ہوا ہے: ثم استوى الى السماء (2:29) - ثم استوى على العرش (7:54)۔معتزلہ نے ان آیات کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد خدا کا جاہ و جلال ہے جبکہ بعض لوگوں ( مراد ا شعری فرقہ ) کا کہنا تھا کہ ان آیات کی حقیقت پر بلا کیف (بغیر سوال اٹھائے ) یقین کیا جائے۔امام مالک بن انس (795 ء) کے نزدیک آیات متشابہات کی تاویل کرنا بدعت اور خلاف شرع تھا۔کہتا ہے کہ تاویل کرنے کے اصولوں سے ہچکچاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق قیاس (deduction, reasoning ) سے ہے جسے یونانیوں نے ایجاد کیا تھا۔(یادر ہے کہ اسلام میں تاویل کا سلسلہ سب سے پہلے الحق الکندی (873ء) نے شروع کیا تھا جیسے اس نے آیت سخر الشمس والقمر کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد یہ ہے کہ سورج اور چاند قوانین فطرت کی پیروی کرتے ہیں۔( آج ہر کوئی اس تاویل سے اتفاق کرتا ہے۔الکندی بہت بڑا فلسفی تھا، نہ کہ عالم دین )۔اس قسم کے تعصب اور تنگ ذہنی کے خلاف کہتا ہے کہ فلسفہ در حقیقت کا ئنات کی اشیاء کی حقیقت و ماہیت معلوم کرنے کا نام ہے۔جہاں تک ان اشیاء کی ہستی کا تعلق ہے وہ اپنے بنانے والے کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتی ہیں۔قرآن مجید ہمیں نہ صرف تفکر (reflection ) کی طرف توجہ دلاتا ہے بلکہ ترغیب دیتا ہے جیسے اولم يننظروا في ملكوت السموات والارض و ما خلق الله من شیی ، (7:184 ) ( کیاده آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور ہر چیز میں جو اللہ نے بنائی ہے ، تدبر نہیں کرتے۔) فاعتبروا یا اولی الابصار (59:2 ) ( پس اے صاحب بصیرت لوگو( دانش مندو) عبرت حاصل کرو۔) پہلی آیت میں نظر سے مراد critical evaluation ہے۔امام الغزائی نے منطق کو آلات النظر کا نام دیا ہے یعنی ( Instrument of Thought )۔کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ قدماء (یونانی) کے بیان کردہ اصولوں اور قوانین پر غور کریں، اگر وہ ہمارے عقائد کے مطابق ہیں تو ہمیں انہیں بخوشی قبول کر لینا چاہئے اور قد ما ء کا دل کھول کر شکر یہ ادا کرنا چاہئے۔اگر وہ غلط ڈگر پر ہیں تو ہمیں ان غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔کیونکہ انہوں نے کوشش کی مگر نا کام 108