ابن رشد

by Other Authors

Page 107 of 161

ابن رشد — Page 107

مذہب اور فلسفہ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فلسفے پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے۔فلسفہ اسلام جس کا دارو مدار قرآن سنت اور علمائے اسلام کی مذہبی کتابوں پر بے یعنی ایسے مسائل جن کا تعلق شریعت سے ہے، ان میں سے چند بنیادی مسائل درج ذیل ہیں: خدا کی ذات اور صفات کا مسئلہ تخلیق عالم کا مسئلہ۔بغیر مادہ کے تخلیق عالم کا مسئلہ۔کائنات کے فانی یا غیر فانی ہونے کا مسئلہ قرآن کے تخلیق شدہ یا غیر تخلیق شدہ ہونے کا مسئلہ۔روح کے فانی (مادی) یا غیر فانی ہونے کا مسئلہ۔انسانی زندگی کا مطمح نظر روز محشر جسموں کے اٹھائے جانے کا مسئلہ عقل اور الہام میں فوقیت کا مسئلہ۔قضا و قدر کا مسئلہ۔خیر و شر کا مسئلہ۔کائنات کے حادث یا غیر حادث ہونے کا مسئلہ، انسان کی آزادی ارادہ کا مسئلہ۔ان مسائل پر مذہب کیا کہتا ہے اور فلسفہ کا نقط نظر کیا ہے؟ یہ بہت وسیع مضمون ہے۔اسلام ان مسائل کے جو جوابات دیتا ہے اس کا نام اسلامی فلسفہ ہے۔مثلاً مذہب اور فلسفہ میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ یہ رہا ہے کہ کائنات حادث ہے یا قدیم؟ اسلام کا موقف یہ ہے کہ عالم تخلیق بالحق ہے لہذا وہ قدیم ہے حادث نہیں ، یعنی کائنات مخلوق اور فانی ہے۔اس کے برعکس ارسطو کا موقف یہ ہے کہ عالم مکان کے اعتبار سے حادث ہے لیکن باعتبار زمانہ قدیم ہے۔ابن سینا اور اس مسلک کے مرید تھے۔نے فلسفے پر قلم اٹھاتے ہی ارسطو کو فلسفے میں اپنا پیشوا اور امام تسلیم کیا۔اس نے اس کی تمام تصنیفات ترتیب دیں، ان پر شر میں لکھیں اور بہت سے ان مسائل کی حمایت کی جو جمہور اسلام کے خلاف تھے۔ان میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ افلاک ازلی ہیں۔خدا نے ان کو پیدا نہیں کیا بلکہ خدا صرف ان کی حرکت کا خالق ہے۔اس نے دعوی کیا کہ اسلامی عقائد کی صحیح تشریح وہی ہے جو ارسطو کے نظریات کے موافق ہے۔اس نے اشاعرہ کے خیالات کو باطل ثابت کیا اور کہا کہ اشعری عقا کہ معقل اور نقل دونوں کے خلاف ہیں۔بائبل کی تخلیق کی کہانی پر یقین نہیں رکھتا تھا اسے اس نے اسلامی تخلیق کائنات کا نیا نظریہ پیش کیا۔اس کا یقین تھا کہ خدا ازل سے ہے، خدا ہی محرک اول (Prime Mover) ہے۔قرآن مجید میں ہر قسم کی صداقتیں موجود ہیں۔اس کی آیات میں عام آدمی کے لئے ایک معنی اور فلاسفہ کے لئے اس کی آیات و الفاظ میں دوسرے مطالب پوشیدہ ہیں۔فلاسفہ کو چاہئے کہ وہ قرآنی آیات کی تفسیر اور معانی عام لوگوں کو نہ بتا ئیں۔ابن سینا کی طرح اس کا یقین تھا کہ خدا ہر شخص کی زندگی میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔اس کے اس طرح کے عقائد کی وجہ سے علما وفقہاء کے اکسانے پر 1195ء میں اس پر شاہی عتاب نازل کیا گیا تھا۔اس کے نظریات پر گہری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مذہب اسلام کے عقائد اور فلسفے کے 107