ابن رشد — Page 88
آزمائش اور جانچ اور اگر نتائج مختلف ہوں تو ان کی روشنی میں نظریے میں تبدیلی۔5۔تجربے کو تین چار مرتبہ دہرانا یہاں تک کہ مفروضے اور مشاہدے میں کوئی تضاد نہ رہے۔اس مرحلے میں مفروضہ تھیوری بن جاتا ہے۔تھیوری ایک نظریہ ہے جس میں مشاہدات کی وضاحت اور پیش گوئیاں کی جاتی ہیں۔یہ سائنسی انقلاب اسلامی دنیا میں بھی آسکتا تھا مگر علما کے سیاسی اثر اور دگرگوں معاشی اور سیاسی حالات کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔: سائنس کا زبردست حمایتی قرون وسطی میں سائنس اور سائنس دانوں کا سب سے بڑا حامی اور طرف دار تھا۔امام غزائی نے اپنی کتاب تهافت الفلاسفة کے ذریعے فلسفے پر جو کاری ضرب لگائی تھی اس کا بڑا انقصان یہ ہوا کہ مسلمان جو کسی وقت ایک شاندار تہذیب کے مالک اور وارث تھے وہ رفتہ رفتہ فلسفے (سائنس) سے بے زار ہو گئے اور اسلامی سوسائٹی انحطاط کا شکار ہو گئی۔مذہب، فلسفہ اور سائنس کا ہر معاشرے میں اپنا اپنا دائرہ کار ہے۔عوام کی فلاح اور بہبود کے لئے نیز ان کی مادی خوشحالی کے لئے سائنس کا علم بہت ضروری ہے۔فلسفہ حقیقت جانے کا یا حقائق سے پردہ اٹھانے کا نام ہے۔ہر انسان کے لئے مذہب بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاریخ انسانی کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ماضی میں ایسی سوسائٹیاں تھیں جن میں نہ تو سائنس تھی اور نہ فلسفہ ہاں ان میں مذہب ضرور تھا۔افلاطون، ارسطو، ابن سینا، ، ڈیکارٹ اور کانٹ کی علمی فضیلت اس بات میں ہے کہ انہوں نے ان مینوں کی اہمیت کو جانا۔عباسی دور حکومت میں جو ابتدائی فلسفی اسلامی دنیا میں پیدا ہوئے وہ سائنس کی اہمیت اور مذہب کی افادیت سے بخوبی واقف تھے۔چنانچہ الکندی، الفارابی، ابن سینا سائنس داں ہو نے کے ساتھ فلسفی اور بچے اور راسخ العقید و مسلمان بھی تھے۔انہوں نے شہرت دوام اس لئے حاصل کی کہ انہوں نے مذہب کے احکام کی اپنے سائنسی اور فلسفیانہ علم کے احاطے کے اندر رہتے ہوئے تشریح اور تادیل دی۔حجتہ الاسلام امام غزالی نے تہافت الفلاسفہ میں فلسفیوں پر کفر کا الزام ان کے ہیں نظریات کی وجہ سے عائد کیا تھا۔نے ان کی کتاب کا رد لکھا اور ان میں التزامات کا جواب تهافت التهافة میں سائنس ، فلسفہ اور مذہب میں تطبیق پیدا کرتے ہوئے دیا۔نے قرآنی آیات کی عقلی و استدلالی تفسیر پیش کرتے ہوئے مذہب کی طرف جانے والے راستہ کی نشاہدہی کی جو قرآن مجید میں مذکور ہے۔نے اس طرح سائنس کا محافظ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سائنسی حقائق کی طرف جانے والے راستے کی رونمائی کی۔مثلاً نے کہا 88