ابن رشد

by Other Authors

Page 84 of 161

ابن رشد — Page 84

کھال اور لوگوں کے مزاج پر کیا۔اسی طرح کتاب میٹر یولوجی کی تفسیر لکھتے ہوئے اس نے اظہار خیال کیا کہ عربوں کی اولاد نے اسپین کے آزاد خطہ زمین میں آباد ہو کر رفتہ رفتہ مقامی لوگوں کی ذہنیت اختیار کر لی ہے۔کتاب الکلیات میں اس نے قرطبہ کے دریاداری الکبیر کے پانی کو خالص اور صحت کے لئے اچھا بتایا ہے۔کا نظریہ ارتقا نظریہ ارتقا کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ کائنات مسلسل ارتقا پذیر ہے، یعنی جو کچھ دنیا میں موجود ہے وہ ہر لحہ یا وقت کے ساتھ نئی صورتیں اختیار کرتا رہتا ہے۔وہ کہتا تھا کہ خدا زمان و مکان کی قیود سے ماوراء ہے اور رب العالمین کی تخلیق کا عمل برابر جاری و ساری رہتا ہے۔خدا نے ہی زمان و مکان کو بنایا۔اس نظریے کی صراحت کرتے ہوئے اس نے خدا کے ازل سے ہونے اور کائنات کے ازل سے ہونے کے فرق کو واضح کیا۔اس نے کہا ازل دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو وہ جس کا سبب ہو یعنی ( eternity with cause ) اور دوسرے وہ ازل جو بغیر علت کے ہے ( eternity without cause )۔کائنات ازل سے ہے کیونکہ اس کا پیدا کرنے والا ازل سے اس پر اثر انداز ہے۔قادر مطلق خدا اس کے برعکس بغیر وجہ کے ازل سے ہے۔خدا کی ذات کے ہونے میں زمان کا کوئی دخل نہیں کیونکہ خدا زمان کے بغیر ازل سے قائم و دائم چلا آ رہا ہے۔جارج سمارٹن نے گزشتہ چند سطور میں بیان کردہ مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے: "Ibn Rushd tried to reconcile the Aristotelian notion of the cternity of the world, which seems to imply a denial of creation, with Muslim creationism۔God is eternal, and His creative effort is perpetual; He creates time (or duration) as well as the world; and He may have created it from eternity۔" (35) چارلس سنگر نے کتاب " اے شارٹ ہسٹری آف سائنٹیفک آئیڈیاز میں کے نظریہ ارتقا کو یوں بیان کیا ہے: "Averroes believed, not in a single act of creation, but in a continuous creation, renewed every instant in a constantly changing world, always taking its new form from that which has existed previously۔" 84