مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 709 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 709

C۔^ سو کیا عظمت اور شفقت ہے اس خدا کی جو اپنے ذلیل بندوں کا ایسا خیال رکھتا ہے جیسا ایک ماں بھی نہیں رکھتی۔اور دکھاتا ہے میں یوں بھی کیا کر تا ہوں۔اس کے بعد اس نے مجھے ایک نہایت عمدہ جگہ پر میری مرضی دریافت کر کے بھیج دیا اور وہاں میرے کاموں کے بوجھ ہلکے کر دیئے اور تنخواہ بہت بڑھا دی۔اور کیا بیان کروں کیا کیا احسانات کئے جن میں سے بعض نا قابل بیان ہیں اور ایک یہ بھی کہ اس متوفی کی بیوہ اور بچوں کے علاج معالجہ کی مدت دراز تک مفت اور خاص توجہ اور شفقت کے ساتھ توفیق دی کہ خود مجھ پر یہ ثابت کر دے کہ میرے دل میں اس سے کسی قسم کی عداوت نہ تھی بلکہ وہ الہی تقدیر تھی جویر امیر است ١٩٢٤ء نازل ہوئی تھی۔غالبا شوراء کا واقعہ ہے کہ میرا تبادلہ گورداسپور سے گوجرہ کا ہو گیا۔میں سیدھا اپنی موٹر سائیکل اور سائڈ کار بذریعہ نہر کی بیٹری قادیان ہوتا ہوا آگے چلا۔ایک کرایہ کا مستری موٹر سائیکل کو چلا رہا تھا اور میں سائڈ کار میں بیٹھا تھا۔جب ہم دونوں قادیان سے اٹھارہ میں میل نکل آئے تو وہ موٹر سائیکل ایک جگہ نہر کے کنارے یکدم ٹوٹ گیا۔جنڈیالہ ریلوے اسٹیشن وہاں سے کئی میل تھا۔میں نے مستری کو تو کہا کہ نزدیک کسی گاؤں میں جا کر کوئی گڈا کیا یہ پہ لے آئے اور خود نہر کے کنارے دُعا میں مصروف ہو گیا۔خیر ایک دو گھنٹ میں ایک ٹوٹا پھوٹا گڈ تو آ گیا اور موٹرسائیکل بھی اس پر لاو دی مگر مجھے یہ تشویش کہ اب غروب آفتاب کا وقت ہو گیا ہے اور جنڈیالہ پانچ سات میل ہے اور راستہ میں بالکل جنگل ہے۔نہ مستری قابل اعتماد ہے اور نہ گڑے والے سکھ قابل اطمینان معلوم ہوتے ہیں۔اور میری جیب میں کافی نقدی موجود ہے۔میرے لئے رات کو اتنا چلنا بھی مشکل ہے۔خدایا تو ہی کوئی انتظام کہ ابھی ہم روانہ بھی نہ ہوئے تھے کہ اتنے میں پیچھے سے موڑ کا ہارن سنائی دیا۔میں نے کہا کہ کوئی انگریز ہو گا جو دورہ یا سفر یہ جارہا ہو گا اتنے میں وہ کا ریکدم میرے منہ کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔حیران رہ گیا جب اندر حضرت صاحب اور چوہدری