مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 686 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 686

۶۸۵ ساتھ لے گیا ہے۔دوزخ میں علاج اور پرہیز کر کے چھوڑ دے۔اور نیک اخلاق انسان بن کر گتاہوں سے صاف ہو کر جنت میں جائے ، تاکہ وہاں فساد نہ پھیلائے۔نیز اس میں خدا تعالے سے دعا کرنے اور اس کی صفات کے سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو۔تاکہ خداشناسی کی وجہ سے خدا کا کلام اور قبولیت دعا کا درجہ اسے ملے۔ورنہ جنت بے کار ہے۔پیس عبرت کا سوال نہیں۔ہاں یہ سوال ہے کہ وہ جنت میں جا کہ چونکہ پھر دہی بدیاں کرے گا اس لئے اس کی اصلاح کا ہونا اور بیماریوں سے اچھا ہونا ضروری ہے۔رہی یہ بات کہ جب وہ حشر میں خدا کو دیکھ لے گا۔تو پھر تو وہ ایماندار ہو ہی جائے گا۔اور آئندہ خود ہی برے کام چھوڑ ے گا۔اس لئے دوزخ کی ضرورت نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ دوزخی بھی تو خدا سے جہنم میں جانے سے پہلے ہی کہیں گے۔کہ خداوند ہم نے تجھے اور تیری جزا سزا کی عدالت کو دیکھ لیا ہے۔اب پھر سہیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم وہاں خداشناس اور صالح بن کر تجھے دکھا دیں گے۔تو ہم کو دوزخ میں نہ ڈال۔مگر خدا تعالیٰ ان کی اس بات کا جواب پہلے ہی قرآن میں دے چکا ہے۔وَلَوْ رُدُّوَ العَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ تَكْذِبُونَ (الانعام: ٣٩) یعنی تم جھوٹے ہو۔اگر ہم تم کو واپس بھی کر دیں۔تو تم ضرور پھر وہی شرارتیں اور ید اخلاقیاں کر د گئے۔اس سے ثابت ہوا کہ وہ لوگ اگر جنت میں چلے بھی جائیں۔تو وہ وہی کر تو میں وہاں بھی کریں گے۔بس شفا خانہ میں سے شفایاب ہو کر جانا پڑے گا۔صرف حشر کی دہشت کافی نہیں۔اور اسی شفا خانہ کا نام جہنم ہے۔ور سرا جو اب اس اعتراض کا یہ ہے کہ دنیا کا تمام معامله خرید و فروخت بدلہ اور جزا سزا پر ہے۔اب ایک آدمی نے ایک قتل کیا۔اور دنیا میں ہی اس کی سزا پائی۔یعنی پھانسی۔اور ایک دوسرے آدمی نے سو قتل کئے۔وہ بھی دنیا سے پھانسی پا کر رخصت ہوا۔ان حالات میں اگر جہنم نہ ہو۔تو پھر وہ نانوے قتل کہاں گئے ؟ ایک خون کرنے والا ایک پھانسی کی سزا پا کہ جنت میں چلا گیا۔اس طرح سوخون کرنے والا ایک پھانسی کی منرا نا کر اپنے سر پہ نانوے