مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 601
اخراجات کی اصلاح کا خیال پیدا ہو جائے۔جو یوں خود بخود نہ پیدا ہو سکتا۔اس لئے محض بطور اشارہ کے میں ایسے بعض امور کا ذکر کر دیتا ہوں۔جو سادہ زندگی اور با کفایت زندگی بسر کرتے ہیں ہمارے کام آسکتی ہیں۔کھانے کے متعلق بعض امور۔1 برف پوتل در شہروں بلکہ قصبات تک میں بہت سے لوگ برف اور بوتل کے بہت شائن نظر آتے ہیں۔اور بچوں کا تو کچھ حال ہی نہ پوچھو۔شائد لبعض گھروں میں تمام دن کی برف اور بوتلوں کا خرچ اصل کھانے سے زیادہ جائے تا ہے۔اسی طرح بعض لوگ بلا کسی خاص ضرورت کے اپنے ہاں ہمیشہ برف اور بوتلیں ذخیرہ رکھتے ہیں بلکہ دکاندار سے باندھ لگالیتے ہیں۔پھر خواہ ٹھنڈک ہو۔یا بارش برف ان کے ہاں ضرور آجاتی ہے۔خواہ کچھل پھل کہ ضائع ہوتی رہے۔حالانکہ تریش یوتل اور ٹھنڈی برف خصوصاً بچوں کے گلے کے لئے اور ان کے دانتوں کے لئے اور ان کے معدہ کے لئے بہت مضر ہے۔اگر متواتر یا بکثرت استعمال کی جائے۔شہر کے لوگ تو پانی پی ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ یخ کی طرح ٹھنڈا نہ ہو۔اور اس طرح وہ اپنے دانتوں اور قوت ہاضمہ کو تباہ کرتے ہیں۔اور مالی بوجھ اتنا پڑتا ہے کہ متوسط الحال لوگوں کے ہاں بعض مہینوں میں صرف ہیں ایک خرم دس سے پندرہ روپیہ تک جاپہنچتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض برف بیچنے والے ایک پیسے کی برف کوٹ کر اور اسے رنگ کر تنکوں کے سروں پر بطور گولے کے بنا لیتے ہیں۔اور ایسے گولے پیسے پیسے بچتے پھرتے ہیں۔بے شک وہ تو ایک پیسے کی برف سے تین آنے کما لیتے ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے بھی حساب کیا ہے کہ آپ کے بچے بعض اوقات ایک آنہ یا دوآنہ روزانہ اسی کھیل میں ضائع کر دیتے ہیں۔حالانکہ اس وقت خود آپ کے گھر میں بھی برف موجود ہوتی ہے۔