مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 570 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 570

۵۶۹ روایت ۳۳ - مجھے پچیس سال تک حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا کے عادات و اطوار اور شمائل کو بغور دیکھنے کا موقع ملا ہے۔گھر میں بھی اور باہر بھی ہیں نے اپنی سازی عمر میں آج تک کامل طور پر تصنع سے خالی سوائے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے کسی کو نہیں دیکھا۔حضور کے کسی قول یا فعل یا حرکت و سکون میں بناوٹ کا شائبہ تک بھی میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔روایت ۳۳۷ ابتدائی ایام کا ذکر ہے کہ والد بزرگوار (یعنی خاکسار کے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنا ایک بانات کا کوٹ جو مستعمل تھا ہمارے خالہ زاد بھائی سید محمد سعید کو جو ان دنوں قادیان میں تھا کسی خادمہ عورت کے ہاتھ بطور ہدیہ بھیجا۔محمد سعید نے نهایت حقارت سے کوٹ واپس کر دیا اور کہا کہ میں مستعمل کپڑا نہیں پہنتا۔جب وہ خادمہ یہ کوٹ واپس لا رہی تھی راستہ میں حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میر صاحب نے یہ کوٹ محمد سعید کو بھیجا تھا مگر اس نے واپس کر دیا کہ میں اترا ہوا کپڑا نہیں پہنتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس سے میر صاحب کی دل شکنی ہو گی۔تم یہ کوٹ نہیں دے جاؤ۔ہم پہنیں گے اور ان سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے۔روایت ۳۷۲ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپ کے لئے نیا کرتہ بنوا لاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرک کے طور پر حضور کا اترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ کسی نے میرے ہاتھ ایک نیا گر تہ بھجوا کہ پرانے اترے ہوئے کرتے کی درخواست کی۔گھر میں تلاش سے معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی اُترا ہوا ہے دُھلا کرتہ موجود نہیں۔جس پر آپ نے اپنا مستفعل گرتہ دھوبی کے ہاں کا ڈھلا ہوا دیے جانے کا حکم فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ یہ تو دھوبی کے ہاں کا ڈھلا ہوا کرتہ ہے اور وہ شخص تبرک کے طور پر میلا کرتہ لے جانا چاہتا ہے۔حضور نہیں کہ فرمانے لگے کہ وہ بھی کیا برکت ہے جو دھوبی کے ہاں ڈھلنے سے جاتی رہے۔چنانچہ وہ کرتہ اس شخص کو