مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 542 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 542

۵۴۱ کے لئے اس کا استعمال نہیں کرتے۔پھر اگر مزے کی چیز بھی استعمال کی تو ایسی ثبت اور کام کرنے والے کے لئے تو فرض ہے۔حالانکہ ہمارے جیسے کاہل الوجود انسانوں کے لئے وہی کھانے تعیش میں داخل نہیں۔اور پھر جس وقت دیکھا جائے کہ وہ شخص ان مقوی غذاؤں کو صرف بطور قوت لا یموت اور رسد رمق کے طور پر استعمال کرتا ہے تو کون عقل کا اندھا ایسا ہو گا کہ اس خوراک کو لزائد حیوانی اور حظوظ نفسانی سے تعبیر کرے۔خدا تعالیٰ ہر مومن کو بیٹنی سے بچائے۔دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے۔کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ ادھر دودھ پیا اور ادھر دست آگیا۔اس لئے بہت ضعف ہوتا جاتا تھا۔اس کے ٹور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم کرنے کو پی لیا کرتے تھے۔دن کے کھانے کے وقت پانی کی جگہ گرمی میں آپ کسی بھی پی لیا کرتے تھے اور برف موجود ہو تو اس کو بھی استعمال فرما لیتے تھے۔ان چیزوں کے علاوہ شیرہ بادام بھی گرمی کے موسم میں میں میں چند دانہ مغز با دلم اور چند چھوٹی الائچی اور کچھ مصری پیس کر چھین کر پڑھتے تھے۔پیا کرتے تھے۔اور اگر چہ معمولاً نہیں مگر کبھی کبھی رفع ضعف کے لئے آپ کچھ دن متواتر بینینی گوشت یا پاؤں کی پیا کرتے تھے۔اور یہ یخنی بھی بہت بد مزہ چیز ہوتی تھی یعنی صرف گوشت کا ابلا ہوا رس ہوا کرتا تھا۔میوہ جات آپ کو پسند تھے اور اکثر قدام بطور تحفہ کے لایا بھی کر تے تھے۔گا ہے یگا ہے خود بھی منگواتے تھے۔پسندیدہ میووں میں سے آپ کو انگور ہمیٹی کا کیلا۔ناگپوری نگرے ، سیب ، سر دے اور سر ولی آم زیادہ پسند تھے۔باقی میرے بھی گاہے ما ہے جو آتے رہتے تھے کھا لیا کرتے تھے گا کبھی آپ کو پسند تھا۔