مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 485 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 485

۴۸۴ زید بن حارثہ کا قصہ جاہلیت کے زمانہ میں آپ کے ایک غلام تھے۔ان کا نام زید تھا۔آپ کے پاس وہ اس طرح آئے تھے کہ ایک دفعہ کئی لٹیروں نے اُن کے قبیلہ پہ ڈاکہ مارا۔اور ان کو قید کر کے لے گئے اور غلام بنا کر بیچ دیا۔ان کو حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم نے اپنی پھوپھی کے لئے لیا اور مکہ میں لاکر ان کے حوالہ کر دیا۔اس وقت زید کی عمر ہر سال کی تھی۔حضرت خدیجہ نے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کر دیا۔اب وہ آپ کی خدمت میں رہنے لگے۔اتفاقاً کچھ مدت کے بعد زید کے رشتہ داروں کو ان کا پتہ چل گیا۔اُن کے والدین کا نام حارثہ تھا۔ان کی تلاش میں اپنے بھائی سمیت مکہ آپہنچے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اسے عبد المطلب کے صاحبزادے ہم اپنے لڑکے کے لئے حاضر ہوئے ہیں جو آپ کی خدمت میں ہے۔آپ ہم پر احسان کریں۔اور اس کا فدیہ لے کر اُسے ہمارے حوالے کر دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔وہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا زید۔آپ نے زید کو بلایا اور پوچھا کہ تم ان کر جانتے ہو۔وہ بولے ہاں یہ میرے والد ہیں۔اور یہ میرے پچا ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ زبید یہ لوگ تم کو لینے آئے ہیں۔اور تم نے میرے حال کو بھی دیکھ لیا ہے۔میری طرف سے تمہیں اجازت ہے۔خواہ یہاں رہو۔خواہ ان کے ساتھ واپس وطن کو چلے جاؤ۔زید نے جواب دیا۔حضور میں ان کے ساتھ نہیں جاؤں گا۔میں تو آپ کے پاس ہی رہوں گا۔آپؐ ہی میرے باپ ہیں اور آپ ہی میرے چچا ہیں۔ان کا باپ بولا۔کم سخت تیرا برا ہو۔تو آزادی پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے۔اور اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر غیروں کے پاس رہنا چاہتا ہے۔زید نے جواب دیا۔ہاں میں نے ان صاحب میں ایسی بات دیکھی ہے کہ اب میں انہیں چھوڑ کر کسی دوسرے کو پسند نہیں کر سکتا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کی یہ وفاداری اور شکر کا بند یہ دیکھا تو آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر کعبہ کے صحن میں لے گئے