مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 461
آپ کے سامنے حاضر کیا۔آپ نے اسے تناول فرمایا۔حضرت بلال حبشی پر ظلم بلال رضی اللہ تعالی عنہ ایک حبشی غلام تھے۔ان کا مالک قریش میں سے ایک شخص تھا۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔جب بلال غم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔تو ان کے مالک کو بھی معلوم ہوگیا۔اس نے ان کو ہر طرح و مکایا کہ پھر کافر ہو جائیں۔مگر یہ نہ مانے۔پھران کو مارا پیٹا۔مگر یہ اسلام پر قائم رہے۔آخر وہ اور ابو جہل ان کو بہت سخت تکلیفیں اور عذاب دینے لگے۔لوہے کی زرہ پہنا کر سخت گرمی کے موسم میں ان کو مکہ کے باہر تپتے پتھروں اور جلتی ریت پر لٹا دیتے۔دھوپ اور ٹو سے ان کا برا حال ہو جاتا۔اور بے ہوش ہو جاتے تھے۔پھر ان کے گلے میں رسی باندھ کہ ان کو گھسیٹتے پھرتے۔پھر کبھی ان کو ننگا دھوپ میں لٹا کر چھاتی پر چکی کا پاٹ رکھ دیتے۔اور ہر طرح کا دکھ ان کو پہنچاتے تھے۔اور سخت سخت ماریں ان پر پڑتی رہتی تھیں۔اور وہ لوگ انہیں کہتے تھے کہ اللہ کا نام نہ لو۔بتوں کو اپنا خدا کو پھر ہم تم کو نہیں ستائیں گے۔مگر اس مصیبت اور بے ہوشی میں بھی سر ملا کہ اس بات کا انکار کر دیتے تھے اور کہتے تھے۔احد احد میرا خدا تو وہی ہے جو اکیلا ہے۔اور اس کا کوئی شریک نہیں۔یہ مذاب روزانہ ان کو دیئے جاتے تھے۔اور وہ بیچارے صبر کرتے تھے۔غرض مدتوں ان مصیبتوں ہیں رہے۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ رہا گیا۔اور آپ نے ایک دن فرمایا۔کہ اگر میرے پاس کچھ ہوتا۔تو میں بلال کو خرید کہ آزاد کر دیتا۔پریشن کر حضرت ابو بکر رض نے انہیں خرید لیا۔اور آزاد کر دیا۔پھر وہ حضور کی خدمت میں رہنے لگے۔یہ بلال من ساری عمر حضور کے مؤذن رہے۔اور مسجد نبوی میں پانچ وقت اذان دیا کرتے تھے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا۔تو غم کے مارے مدینہ کو چھوڑ کر ملک شام میں جاہیے اور مدتوں وہاں رہے۔