مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 448 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 448

اسی طرح ایک ایک کرکے میں دیتا جاتا تھا۔اور وہ لوگ سیر ہو کر مجھے پیالہ واپس کرتے جاتے تھے جب سب پی چکے۔تو میں نے وہ پیالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھایا۔آپ اسے ہاتھ میں نے کر مسکرائے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ اب فقط تم اور میں باقی رہ گئے ہیں۔یہیں نے کہا۔ہاں یارسول اللہ آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور اسے پیو میں نے تعمیل حکم کی اور مینی خواہش بھی پی لیا۔آپ نے پھر کہا اور ہو۔میں نے اور پیا۔آپ نے پھر کیا اور یہ میں نے بمشکل اور کچھ پیا۔اور عرض کیا۔کہ آپ میرے پیٹ میں ذرہ جگہ باقی نہیں رہی۔اس پر آپ نے وہ پیالہ خود لے لیا اور بسم الل احد الحمید پڑھ کر باقی بچا ہوا نوش فرمایا۔شراب نے لنگڑا کر دیا ایک وقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ لوگ ایک قبیلہ کے آنے انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمارے ملک کی آب وہوا اچھی نہیں۔اس لئے ہم چھوارے ہو کر ان کا پانی پیا کرتے تھے۔کیا ہم ایس کر لیا کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں اس کا کچھ مضائقہ نہیں۔مگر کسی شراب کے برتن میں چھوارے نہ بھیگونا ورنہ پھواروں کے پانی میں ہی نشہ پیدا ہو جائے گا۔اور تم وہ نشہ والا پانی لے کر ایک دوسرے سے لڑنے لگو گے اور یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ ایک کی تلوار سے دوسرے کا پیر زخمی ہو جائے گا۔اور وہ بیچارا عمر بھر کے لئے لنگڑا ہو جائے گا۔آپ کی یہ بات سن کہ وہ لوگ بہت ہی ہنسے آپ نے پوچھا اتنا کیوں ہنستے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا کہ خدا کی قسم ایک وفعہ ایسا ہی ہو چکا ہے۔ہم لوگوں نے شراب کے برتنوں میں چھوارے بھگو دیئے۔پھر جوان کا پانی پیا تو ایسا نشہ ہوا کہ ہم آپس میں ہیں لڑ پڑے اور یہ لگڑا شخص جو سامنے کھڑا ہے۔اس کو ایسی سمورنگی کہ بیچارا ہمیشہ کے لئے ایک ٹانگ سے معدار ہو گیا۔