مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 439
بدبختوں کی کہ توت (مکہ) ابن مسعود بیان کرتے ہیں۔کہ ایک دن آپ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔اور ابو جہل اور اس کے کئی دوست بھی پاس ہی مجلس لگائے بیٹھے تھے۔آپ کو دیکھ کہ ایک ان میں سے بولا۔کہ اس وقت فلاں اُونٹنی ذبح ہوئی ہے۔کوئی جا کہ اس کی اوجھڑی اٹھا لاؤ اور جب محمد سجدہ میں جائے تو اس وقت وہ اوجھڑی اس پر رکھ دے۔پھر خوب نماشہ ہور بین کر ایک آدمی جس کا نام عقبہ تھا۔اُٹھا۔اور جا کر اسر، اوجھڑی کو لایا پھر موقعہ تا کتا رہا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے اس کو آپ کی پیٹھ پر دونوں شانوں کے پیچے میں رکھ دیا۔وہ کم بخت لوگ یہ دیکھ کر قہقہے لگانے لگے۔اور ایک دوسرے پر سینی کے مارے گرتے پڑتے تھے۔اود مراد بھیڑی کے بوجھ کے بارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ سے سر نہ اٹھا سکتے تھے۔آخر حضرت فا طریقہ آئیں اور اُنھوں نے بڑی مشکل سے اس بوجھ کو آپ کی پیٹھ پر سے کھینچ کر زمین پر پھینکا تو آپ نے سر اُٹھایا اور فرمایا " یا اللہ ان شریروں سے سمجھ “ یہ دعا ان بد معاشوں کو بڑی لگی کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ کعبہ ہیں دعا مقبول ہوتی ہے۔پھر آپ نے نام لے لے کر ان کے لئے بد دعا کی۔اور کہا یا اللہ او جہل سے سمجھے یا اللہ عیہ اور شیب سے مجھ یا اللہ ولید اور امیہ سے سمجھ اور ساتویں کا نام بھی لیا جو مجھے اس وقت یاد نہیں رہا۔ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے بدر والے دن ان ساتوں کی لاشوں کو بدر کے کنوئیں میں پڑا ہوا دیکھا