مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 391
۳۹۰ محض اس کے فضل سے یہ نکتہ میرے دل میں گھس گیا۔کہ منقطعات فاتحہ ہی ہیں ، جب اس پر میں نے غور کیا تو اسے درست پایا۔پھر جب میں نے مقطعات کو جمع کیا اور ان کے معنے اور تغییر سورتوں پر لگانے لگا۔تو ن کے معنے اور تعین کو درست نہ پایا۔اور اس چیز نے مجھے بہت پریشان کیا۔کہ ن مقطعات میں فٹ نہیں آتا۔اسی ادھیڑ بن میں کئی دن گزر گئے۔تو یکدم قرآن کریم کی یہ آیت دل پر القا ہوئی۔أحد عشر كوكيا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمُنِي مجدِينَ (یوسف (۵) ترجمه ، (یقین مانیے) میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو بھی رویا میں) دیکھا ہے (اور مزید تعجب اس پر ہے کہ) میں نے اُن کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا ہے۔پس منا مجھے تکتی ہوئی کہ ن واقعی مقطعات میں سے نہیں ہے۔بلکہ گل مقطعات تیرہ ہی ہیں اور لطف یہ کہ حروف مقطعات بھی تیرہ ہی ہیں اور تیرہ مقطعات میں سے دو نهایت روشن اور نمایاں ہیں۔ایک تو حمہ کا منقطعہ جو لسبب صفات الہی کا جامع ہونے اور فاتحہ کی دوسری تا چہارم آیات کا مقطعہ ہونے کے ایک نمایاں افضلیت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات عالیہ پر حاوی ہے۔دوسرا مقطعہ جو اس سے کم درجہ پر ہے۔مگر باقی سب پر نمایاں ہے وہ اس کا مقطعہ ہے جو لسبب انعمت عليهم اور مغضوب علیہم اور ضالین کے بیان کے انسانی تمام حالات پر حاوی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں مقطعات تعداد کے لحاظ سے بھی زیادہ ہیں۔اور حم اور الم سات سات دفعہ آیات میں وارد ہوتے ہیں۔اور باقی مقطعات کی نسبت اپنی تعدادا در معانی کے لحاظ سے سورج اور چاند کی طرح نہایت روشن چمکدار اور ساتھ ہی اس آیت سے مجھے یہ بھی خوشی ہوئی کہ ان مقطعات کا یہ علم جو مجھے معلوم