مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 329 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 329

۳۲۸ کہ آئندہ کبھی ایسی بات منہ سے نہ نکالنا۔کیا ہمارے پیارے بندوں خصوصا نبیوں پر عذاب بھی آسکتا ہے۔کیا شیطان ان کو مکس کر کے بیماری اور ایتدا لگا سکتا ہے ؟ انبیاء پر خواہ کتنی سخت بیماریاں آئیں وہ کبھی مذاب کا رنگ نہیں رکھتیں۔بلکہ ہمیشہ بطور اصطفاء کے آتی ہیں۔اور شیطان کا نام تو ایسی جگہ بالکل ہی غیر موزوں اور نا مناسب ہے۔ان عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانُ (الحجر ۴۳۱) ترجمه ، جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کبھی تسلط نہیں ہوگا۔اور فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ( المائده : ١٩) ترجمہ ، پھر وہ تمھارے قصوروں کے سیب سے تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے۔و لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُون (البقره ۳۹۱) توجه ر اُنھیں نہ کوئی (آئندہ کا خوف ہوگا اور نہ وہ (سابق کوتا ہی پر) نگین ہوں گے۔اور اني لا يَخَافُ لَدَى الْمُرْسَلُونَ (النمل (1) ترجیے دیکھیں وہ ہوں کہ رسول میرے حضور میں ڈرا نہیں کرتے۔وغیرہ آیات کے بالکل یہ خلاف اس دعا میں الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔اگر رسولوں پر مذاب آنے لگے تو پھر امان ہی اُٹھ جائے چنانچہ آپ قرآن مجید کو اوّل سے آخر تک پڑھ جائیں۔عذاب یعنی سترا کا لفظ سینکڑوں مقامات (قریباً ۳۱۵) جگہ میں استعمال ہوا ہے ، مگر ایک جگہ بھی دو رسل - انبیاء اولیاء علیکم موسون تک کے لئے بھی نہیں آیا۔سو یہ وہ کمزوری یا حنث یا ذنب یا غلطی تھی۔جو ایوب سے سرزد ہوئی۔پس جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ خدا نے ان کا روحانی علاج بھی کر دیا کہ دیکھ آئندہ پھر ایسا کلمہ منہ پر نہ لائیو۔یہ بہت گناہ کی بات ہے۔آئندہ میں تجھ سے ایسی بات نہ سنوں کہ مجھ پر عذاب نازل ہو رہا ہے یا شیطان کا اثر مجھ پر غالب آگیا