مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 315
۳۱۴ تجویز پیش کی۔کہ خدا کے لئے ان جھگڑوں اور ذلیل کارروائیوں اور عداوتوں کو چھوڑ دو۔میں تو صلح کا خواہاں اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔اگر مجھے غیر سمجھے کہ یہ حرکتیں کرتے ہو تو بہتر ہوگا کہ ضلع کی خاطر ہماری تمہاری آپس میں رشتہ داری ہو جائے۔دیکھو اس وقت میری دوجیاں جوان موجود ہیں۔سارا گاؤں جانتا ہے کہ ان سے زیادہ نیک اور پاک لڑکیاں نہیں اور کہیں نہیں مل سکتیں۔ان دونوں کی شادیاں میں تمہارے ہی دو لڑکوں سے کر دیتا ہوں جن سے بھی تم منظور کرہ بشر طیکہ تم امن سے رہو اور خوامخواہ روز روز کے فتنے نہ پیدا کیا کرو۔مگر وہ بھلا کہاں سنتے تھے۔وہ تو خو د لوڈ کی طرف سے ہی بھرے بیٹھے تھے اور دولوک فیصلہ کرنے آئے تھے کہنے لگے۔سفوجی ! یہاں تو بیرونی لوگوں کے آنے اور ٹھہرنے کا جھگڑا ہے۔تمہاری بیٹیوں کا کوئی ذکر اور تعلق نہیں۔نہ ہمیں ان سے کوئی سروکار ہے۔مَا لَنَا فِي بَنْتِكَ مِنْ حَقِّ (هود : ۸۰) ترجمہ تیری لڑکیوں کے متعلق نہیں کوئی بھی حق (حاصل) نہیں ہے۔بلکہ تم جانتے ہو۔جس لئے ہم آئے ہیں۔ہم تم سے تعلق بڑھانے اور صلح کرنے نہیں آئے۔بلکہ اس لئے آئے ہیں۔کہ اب تم کو یہاں سے نکال کر چھوڑیں اخر جو ا ال نوطٍ مِنْ قَرْيَتِكُمْ (النمل (٥٠) ترجمه : (اے لوگو) لوط کے خاندان کو اپنے شہر سے نکال دو۔آج آخری فیصلہ ہمارا تمہارا ہے۔ہم نے معلوم کر لیا ہے۔کہ تمہارے ہاں کچھ آدمی باہر کے اب بھی اندر چھپے بیٹھے ہیں۔عرض یہ سلسلہ جنبانی صلح کی ناکام رہی اور لوط علیہ السلام گھر کے اندر آگئے اور غالباً حضرت لوط علیہ السلام معه لواحقین آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح گھر کے دوسرے دروازہ یا پچھواڑے سے دشمنوں کی آنکھوں میں خاک جھونک کر اس بستی سے نکل گئے۔اس پاک جماعت کے نکل جانے کے بعد وہ پہاڑ جس پر سدوم واقعہ تھا۔اور جو