مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 312
۳۱۱ قرآن کریم میں حضرت لوط علیہ السلام کا قضہ اس قصہ میں مشکل مقام صرف اس بات کا جھگڑا ہے۔جہاں حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیوں کا ذکر آتا ہے۔اور قرآن میں وہ دو جگہ ہے۔ایک تو سورہ ہود میں وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ - وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السياتِ قَالَ يَقَومِ هَؤُلاء بَنَاتِي هُنَّ الهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللهَ وَلَا تُخُرُونِ فِي ضَيْفِى اليْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيده قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنْتِكَ مِنْ حَقِّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ (ہود: ۸۰۱۷۹) ترجمہ ، اور اس کی قوم (غصہ سے) اس کی طرف بھاگتی ہوئی آئی اور یہ پہلا موقعہ نہ تھا) پہلے (بھی) وہ ( لوگ نہایت خطرناک) بدیاں کرتے تھے۔اُس نے کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ( جو تمھارے ہی گھروں میں بیاہی ہوئی) ہیں۔وہ تمھارے لئے (اور تمھاری آبرو کے بچانے کے لئے نہایت پاک (دل اور پاک خیال) ہیں۔پس تم اللہ کا تقوی اختیار کرو اور میرے مہمانوں (کی موجودگی) میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں سے کوئی (بھی) سمجھ دار آدمی) نہیں ہے اُنھوں نے کہا کہ تو یقیناً معلوم کر چکا ہے کہ تیری لڑکیوں کے متعلق نہیں کوئی بھی حق (حاصل) نہیں ہے اور جو (کچھ) ہم چاہتے ہیں اُسے تو جانتا ہے۔اور دوسری جگہ سورہ حجر میں