مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 256
۲۵۵ ہو تو اتنے اور یار یار کے مانگنے اور پیچھے پڑنے والوں سے تنگ ہو کر اُن کو دھکے دے کر اپنے دروازہ سے باہر نکال دے۔مگر یہ اُسی کا حوصلہ اور میر ہے کہ نہ آزردہ ہوتا ہے نه برا کہتا ہے۔نہ جھڑکتا ہے۔نہ اُن کو کسی قسم کی تکلیف پہنچاتا ہے۔اور سوال کرتے ہیں بندہ جو بے احتیاطیاں اور زیا دتیاں کرتا ہے اُسے برداشت کرتا چلا جاتا ہے اور ان پر صبر کرتا ہے۔بلکہ جتنا کوئی مانگے اتنا ہی اس سے خوش ہوتا ہے۔پس یہ بھی صبور کے ایک معنے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو یہ نمونہ میر اور عالی مومندگی کا دکھا سکے۔سبحان اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيم و الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۴۸ء