مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 205
۲۰۴ Y کوئی بھی اس کو اپنی قدرت اور فعل کے اظہار سے روک نہیں سکتا۔۔وہ خلق کرتے ہیں روح و مادہ کا محتاج نہیں ے۔نہ وہ اونگھتا ہے نہ سوتا ہے - کوئی اس کے حضور سفارش نہیں کر سکتا بغیر اجازت کے۔اس کو کسی کی عبادت کی احتیاج نہیں۔ا۔وہ پاک ہے اس بات سے کہ اس کی قدرتوں کا کوئی احاطہ کر سکے۔وہ کسی جسمانی تخت یا کرسی پر بیٹھا ہوا نہیں ہے۔۔نہ وہ کھاتا ہے نہ بنتا ہے۔۱۳۔وہ پاک ہے ان عیوب سے جو اس کے شان کے بر خلاف ہوں مثلاً جھوٹ بون خودکشی کرنا۔مرنا۔اپنے جیسا ایک اور خدا پیدا کرنا۔بیوی دیکے اختیار کرنا بینیم لینا بھول جانا تھک جاتا۔ناقص اور باطل مخلوقا پیدا کرنا علم وحکمت کے بر خلاف کام کرنا بخل کرنا۔بندوں کی ہدایت کے سامان مہیا نہ کرنا گناہ معاف نہ کر سکتا۔فاضل ہونا۔اس کے جواست کا انسانی اعضا کی طرح ہوتا۔اس کے غضب کا اس کی رحمت پر غالب ہونا کسی کا اس کی مثل ہونا یا اس کا کسی کی مثل ہونا۔زوال پذیر یا تغیر پذیر ہونا وغیرہ وغیرہ تعمید تحمید کے معنے الحمد للہ کے ہیں مگر ساتھ ہی یہ اعتقاد بھی ضروری ہے۔کہ واقعی جیسا کہ میں زبان سے کہتا ہوں۔ویسے ہی خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کو قابل ستائش قابل تعریف اور قابل حمد بھی یقین کرتا ہوں۔اور نہ صرف اُسے ہر کمزوری اور عیب سے پاک سمجھتا ہوں۔بلکہ مزید یہاں اس کی صفات کو بھی نہایت اعلیٰ اور نہایت پسندیدہ خیال کرتا ہوں۔وہ نہ صرف منہ سے الحمد للہ کہنا اور اعتقاداً اسے رحیم کریم مالک رب اور شانی نہ سمجھنا تمہید کے اصول کے برخلاف