مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 135
محترم جناب مولانا غلام باری سبف صاحب راقم الحروف نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کو اُن کی زندگی میں دیکھا۔ان کے اکثر مضامین الفضل میں چھپے۔انہیں پڑھا۔آپ جماعت کے اولین بزرگوں میں سے تھے حضرت میر محمد اسحق صاحب کو دیکھا۔سفروں میں ہمرکاب رہا۔جلسوں میں آپ کے ساتھ شرکت نصیب ہوئی۔آپ کے درس منے آپ سے حدیث، فقہ او منطق پڑھی۔آپ میں چونسٹھویں سال میں قدم رکھ رہا ہوں۔ہندوستان میں گھوم پھر کہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب کے رفیق مولانا محمد قاسم ناناتوی کے شاگردوں سے پڑھا۔لیکن میں نے حضرت میر صاحب جیسا حدیث کا درس نہ دیکھا۔نہ سُنا۔حدیث کے بیان کے وقت وہ سراپا گداز ہوتے۔آپ کے درس میں ایسا سماں بندھ جاتا۔گویا سامع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہے۔آپ کی شفقت سلسلہ سے فدائیت طلباء سے محبت، نظم و ضبط ، حق گوئی ، جماعت کی تربیت ، اصول پرستی، بے نفسی، قناعت، عبادت اور عشق رسول یاد آتی ہے تو دل بھر آتا ہے۔ایسے انسان اس صفحہ مہستی پر کبھی کبھی نمودار ہوتے ہیں۔ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چین میں دیدہ ور پیدا آج سے قریباً پینتیس سال پہلے طالب علمی کے زمانہ میں کسی نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود کے رفقاء میں سے سب سے بڑے صوفی کون تھے۔یاد نہیں میں نے کیا جواب دیا تھا لیکن یہ خوب یاد ہے کہ انہوں نے پھر خود ہی فرمایا۔