مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 702
نہ سہی گہ میرے اشعار میں معنی نہ سہی میرا یہ مطلب نہیں کہ غالب معمولی شاعر تھے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ گو وہ نہایت اعلیٰ اور فلسفیانہ اشعار کہتے تھے مگر بعض اشعار ان کے مشکل اور دقیق اور بعض واقعی بے بنی ہوا کرتے تھے۔اور سب اہل الرائے اوریوں اور شاعروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے۔مگر آج کل ایک فرقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو ان کو نا واجب طور پر آسمان پر چڑھا رہا ہے۔اپنی میں سے ہمارے ایک دوست محمد جی صاحب بھی تھے۔وہ کہا کرتے تھے۔واہ غالب۔غالب۔غالب تیرا کلام کیسا عجیب ہے۔میرے نزدیک تیرا ایک شعر بھی بے معنی نہیں ہے۔ایک بندکش بھی بغیر خوبی کے نہیں ہے۔وہ لوگ بد تمیز ہے علم اور احمق ہیں جو تیرے اشعار کو مشکل یا بے معنی کہتے ہیں مجھ سے پوچھیں تو میں ان کو تیرے اشعار آب دار کی تغییر کر کے بتاؤں۔جولائی شاہ کا زمانہ تھا کہ ایک دن جب میں ایسے فقرے سنتے سنتے تھک گیا تو ان سے عرض کیا کہ بھائی محمد جی صاحب ہمارے پاس بھی آپ کے سکریم محترم غالب کی ایک غیر مطبوعہ غزل ہے۔جب جانیں تم اس کے صبح پینے کر دو۔ورنہ شیخی بگھارنا کوئی خوبی نہیں کہنے لگے ابھی لائیے ابھی۔میں نے عرض کیا کل پیش کروں گا۔چنانچہ رات کو مہاری پارٹی نے غالب بن کر ان کے طرز کی ایک غزل بنائی۔اس سازش میں تین چارہ آدمی شریک تھے۔دوسرے دن جب محمد جی صاحب تشریف لائے تو ہم نے وہ غزل پیش کی۔پہلے تو دیہ تک اُسے پڑھتے رہے۔پھر فرمانے لگے۔بے شک ہے تو یہ غالب ہی کی پھر بھومنے لگے واہ کیا کلام ہے۔کیا باریک نکات ہیں۔کیا الفاظ کی بندش ہے، کیا گہرائیاں ہیں۔کیا معانی ہیں بس قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔یہ کہ کہ انہوں نے ایک ایک شعر کی باریکیاں اور معنے بیان کرنے شروع کئے جب آخری شعر کی تفسیر سے فارغ ہوئے تو حاضرین نے ایک قہقہ لگایا۔پھر تالیاں پیٹیں۔اور