مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 670 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 670

ہے۔444 لا۔سارے دکھ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے نہیں آتے۔بلکہ ایک انسان دوسرے انسان کو دکھ دیتا ہے۔یا خود انسان اپنی غفلت و نسیان یا کم علمی یا کم عقلی کی وجہ سے اپنے آپ کو بھی دُکھ میں ڈال لیتا ہے۔خدا کی طرف سے جو دُ کھ نظر آتے ہیں۔ان میں سے ایک حصہ تو ظاہر کمال حکمت پر مبنی ہے۔اور ایک حصہ ایسا ہے جو باریک بینی کا محتاج ہے اور ایک حصہ ایسا ہے۔جو آئندہ زندگی کے لئے مفید ہے۔خواہ بظاہر اس وقت اس کا حاضر قائدہ نہ ہو یادہ دُکھ ہے جس کی چیزا خدا کی طرف سے بہت بڑھ چڑھ کہ آخرت میں ملے گی اور اس وقت انسان کہے گا کہ یہ تو بڑے نفع کا سودا تھا جسے میں نے خسارہ سمجھ رکھا تھا مجھے قربانی بنایا گیا۔دوسروں کے قائدہ کے لئے اور اب مجھے اس قربانی کا فائدہ اور جزا اضعافا مضاعقہ مل گئے۔دکھ کا وجود شکر کے احساس کے لئے ضروری ہے ورنہ سکھ پھر کچھ بھی نہیں رہے گا نہ اس کی قدر ہوگی۔نہ اس میں راحت محسوس ہوگی۔۱۴ دنیا میں شکر بہت زیادہ ہے اور دُکھ بہر حال کم۔قرآن نے انا اعطينكَ الْكَوْثَر (الكوثر : ۲) (اے نبی کا یقیناً ہم نے تجھے کو شر عطا کیا ہے۔میں کثرت نعما و الہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ناشکرے انسان کے پاس سے لاکھوں میں سے ایک نعمت چھن جائے۔تو اس قدر شکل بچاتا ہے کہ خدا کی پناہ۔حالانکہ ابھی نانوے ہزار نو سو نانی سے نعمتیں اس کے پاس موجود ہوتی ہیں وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَاء والخل ١٩٠) ترجمہ ہر اور اگر تم اللہ کے احسان شمار کر نے لگو تو کبھی غم ان کا احاطہ نہ کہ دارد اگر اللہ انکار کرنے لگو تو ہم ان نہ سکو گے۔