مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 668
چند مختصر باتیں ا پہلی بات تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ظالم نہیں بلکہ رحیم ہے۔دوسری یا درکھنے والی بات یہ ہے جسے لوگ بھول گئے ہیں کہ تکالیف اور مصائب اور بیماریاں اور افلاس، حتی کہ سرائیں جہنم اور غضب الہی بھی خدا تعالے کے رحم کے باپ کی ایک فصل اور اس کے محکمہ کرم وشفقت کی ایک شارع ہیں۔اس سے زیادہ ان کی حقیقت نہیں۔تمام دکھ خدا تعالیٰ نے سکھ کی طرف جانے کا ایک ذریعہ بنائے ہیں۔بغیر ان کے انسان خدا کی رحمت اور آرام کا پورا حقیہ نہیں پاسکتا۔اور یونہی بے مطلب و بے معنی نہیں ہیں۔بلکہ کمال درجہ کی حکمت پر مبنی ہیں۔وہ چاہتا تو سکھ ہی سکھ ہوتا۔مگر پھر یہ عالم اور یہ نظام نہ ہوتا طبعی اور جسمانی تکالیف سے اس دنیا میں کوئی بندہ خالی نہیں۔نہ کا قرینہ مسلمان نہ وحشی -٣ انسان نہ انبیا ء نہ بچے نہ پڑے۔نہ جوان نہ بوڑھے نہ نیک نہ یک۔ہاں اگلے جہاں میں جینت ایدی سکھ کے لئے بنائی گئی ہے اور دوزخ عارضی دکھ باسنزا کے لئے تاکہ بعض لوگ جو اپنی بیماریوں کی وجہ سے نعمائے جنت کی لذت حاصل نہ کر سکتے تھے۔وہ وہاں اپنا علاج کرا کے تعھمائے الہی کی لذت اور حلاوت پاسکیں۔خیال اور تو ہنی دکھ یا قلبی اذیتیں اکثر انسان کی خود ساختہ ہیں۔اس کی حرص و ہوا کا نتیجہ 1۔ہیں۔دنیا طلبی اور لا مذہبی ان کی جڑ ہے اگر ہم بعض دکھوں کی حکمت معلوم کر لیں۔تو ہمارے لئے یہ کافی ہے۔اور ہم اس نظریہ پر قائم ہو سکتے ہیں کہ سارے دکھ سکھ خدا کی حکمت کا ہی نتیجہ ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ کہ ہر دکھا اور ہر سکھ کی وجہ ہم کو معلوم ہو جائے۔صرف چند کی حکمت معلوم کر کے ہم سب کی حکمت کے قائل ہو سکتے ہیں۔سستے نمونہ از خروارے ربَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً (ال عمران (۱۹۲)