مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 648
40'6 آرام ہی آرام ہے۔لیکن کافر کے لئے کوئی آئندہ امید کی شعاع نہیں ہوتی۔اور وہ نہیں جانتا کہ میرا حشر کیا ہو گا۔اور خواہ بظاہر وہ اپنے چہرہ کو خوش و خرم بنانے کی کوشش بھی کرے۔لیکن اس کا دل اس دنیا کی ناکامیوں سے سوختہ اور آئندہ کی نا امیدیوں سے غمگین رہتا ہے۔موسن کے منوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کے پاس سفر میں ہزار روچیہ کے نوٹ ہوں اور کچھ پیسے بھی ہوں۔راستہ میں اگر کوئی جیب کترا اس کے پیسے نکال ہے مگر نوٹ محفوظ رہیں۔تو اگرچہ ان پیسوں کے ضائع ہونے کا تھوڑا سا افسوس اس کو ہوگا۔مگر ہزار روپیہ بچ جانے کی بہت بڑی خوشی بھی ہوگی۔اور اس نقصان کو کوئی عقل مند بڑا نقصان نہیں کہے گا۔بلکہ بسا اوقات شکر کرے گا اور اسی اظہار تشکر کو دوسرے الفاظ میں انا لله وانا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہتے ہیں حقیقی جون اور خوف تو دنیا داروں کا ہوتا ہے جن کی اگر بیوی مر جائے تو گویا ان کا خدا مر گیا۔اور اگر یٹا مرگیا تو ان کا کوئی رب نہ رہا۔مگر دیندار چونکہ اپنے مالک پر توکل رکھتا ہے اور اس کی حکمتوں پریقین رکھتا ہے۔اس لئے وہ کجھ لیتا ہے کہ اگرچہ بظاہر یہ تلخ گھونٹ ہے لیکن میرے فائدے کے لئے ہے۔پس جس طرح لوگ کڑوی دوا کو بھی شوق سے پی جاتے ہیں۔اسی طرح اولیاء اللہ ان تلخ گھونٹوں کو خدا کی حکمت اور خدا کی طرف سے دوا سمجھ کر بعد خوشی پی لیتے ہیں۔اگر چہ پیتے وقت حلق کڑوا بھی ہو جاتا ہے اور منہ بھی بنتا ہے اور آخ آخ بھی کرتے ہیں۔مگر اس کو اپنا علاج اور دوا ابلکہ شفا یقین کمر کے نگلتے بھی جاتے ہیں۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ واقعی ان کو فائدہ معلوم ہوتا ہے اور شفا پاتے ہیں۔اور اگر کوئی عزیز ان کا مر بھی جائے۔تو وہ بھی ان کو چند روز کے بعد اگلے جہان میں مل جاتا ہے۔اب یہ سوال رو گیا کہ ہندو اور عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی آپنے مذہب پر اپنا اطمینان قلب ظاہر کرتے ہیں اور بظا ہر اپنے اپنے مذہب پر مطمئن نظر آتے ہیں۔تو ایک مسلمان کے اطمینان اور ان کے اطمینان میں کیا فرق ہوا ؟ سو اس کے متعلق یہ یادرکھنا چاہیئے۔کہ ان کا اطمینان جہالت کا اطمینان ہے۔اگر کچھ مدت بھی اُن کے مذہب پر جرح جاری رکھی