مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 616
۶۱۵ ہیں۔پھر اسی کشف میں حضور نے ارادہ الہی سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔پھر منشائے حق کے مطابق اس کی ترتیب اور تفریق کی۔پھر آسمان دنیا کو پیدا کیا پھر فرمایا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔" تفصیل کے لئے دیکھو آئینہ کمالات اسلام ماه تا ۵۶۶) اس سے معلوم ہوا کہ الہی منشا بھی ایک نئے نظام کے قیام کا ہے۔اور وہ نیا نظام مقامی اور ملکی یا قومی نہیں ہو گا۔بلکہ سارے عالم کے لئے ہوگا۔اور ضروری ہے کہ کھانے تمام نظام توڑے جائیں۔تاکہ یہ با برکت نظام اس آخری زمانہ میں دنیا کی سرسبزی اور شادابی کے لئے قائم کیا جائے، اس نئے نظام کا تفصیلی ذکر کرنے کا یہاں موقعہ نہیں نہ ضرورت ہے۔کیونکہ وہ پہلے ہی تیرہ سو سال سے دنیا میں موجود اور محفوظ رکھا ہوا ہے۔اس کی برکتوں کا پہلے بھی یہ دنیا تجربہ کر چکی ہے۔اور اس سے قائدہ اٹھا چکی ہے۔وہ کوئی نیا نظام نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ نیا ہے۔یعنی نظام کا خاکہ اور ڈھانچہ تو پورا موجود ہے لیکن ایک چیز اور صرف ایک چیز کی کسر ہے اور اس چیز کا نام ہے بنیا د نظام کو کیا کوئی مسلمان قرآن مجید کی موجودگی اور اسلام کی کامل شریعیت کے ہوتے ہوئے یہ کہ سکتا ہے۔کہ ان کے بعد کوئی اور نیا نظام بھی آسکتا ہے۔اگر یہ عقیدہ رکھا جائے۔تو نہ آنحضرت خاتم النبیین ٹھہر سکتے ہیں نہ قرآن مجید کامل کتاب اور نہ شریعت اسلامیہ کمل شریعت۔پس اگر نظام کو کوئی نئی چیز ہے تو اسلام اور قرآن کو تو جواب ہے۔لیکن اگر قرآن - اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائمی اور رہتی دنیا تک کی چیزیں ہیں۔تو پھر نظام نو کے معنوں پر ہمیں غور کرنا پڑے گا۔اور میں غور وفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس نظام نو کے لفظ کا صرف اتنا مطلب ہے۔ہم اسی قرآنی حکومت کو دنیا میں پھر قائم کریں گے جو قرون اول میں تھی۔اور اسی شریعت کو پھر نا فذ کریں گے۔جو خلفائے راشدین کے زمانہ میں چلتی تھی۔اور اسی نظام کو پھر زندہ کریں گے جو