مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 612
411 یعنی برتن مانجھنے والا۔ایک ڈیوڑھی کا ملازم۔ایک دو عورتیں گھر کا اُوپر کا کام کرنے کے لئے جانوروں کا تو کیہ ، ڈرائیور، مہترانی وغیرہ وغیرہ۔اس حالت میں جب پانچ سات آدمی اپنے گھر کے ہوں اور چار پانچ یا زیادہ ملازم اوپر کے ہوں تو ان کی ہانڈی بآسانی اور بکفایت الگ پک سکتی ہے۔بلکہ گھی کا سوال جانے دو۔اگر گھر والوں کے لئے پلاڈ یا مرغی یا پھلی یا ایسی ہی چیز پکائیں تو کیا ان نصف درجن ملازموں کے لئے بھی ایسا ہی انتظام کرنا پڑے گا۔اور آقا نے اگر پیٹ بھر کہ صرف پلاؤ کھایا ہے۔تو کیا ہر ملازم بھی اس دن پیٹ بھر کہ پلاؤ ہی کھائے گا۔اس کے معنے تو یہ ہوئے کہ جس دن گھر والوں کے لئے ایک مرغ یا سیر مھر پلاؤ پکے۔اس دن ملازمین کے لئے چار مرغ اور پانچ سیر ملاؤ تیار ہوا کر ہے۔کیونکہ بعض ملازمین ماشاء اللہ آقا سے چار گنا کھاتے ہیں اور آٹھ گنا کھا سکتے ہیں اگر کھانا لذیذ ہو۔اور جو آقا ایسا انصاف کرے گا جیسا کہ آپ چاہتے ہیں۔اُسے تو چند روز میں ہی ان نوکروں کو برخاست کرنے کی ضرورت پیش آجائے گی یادہ بیچارہ خود پیلی دال یا قلیسہ کھانا شروع کر دے گا۔اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ غلطی کہاں سے آئی یہ بات یہ ہے کہ اسلام میں غلاموں کے ساتھ سلوک کی نہایت درجہ تاکید وارد ہوئی ہے اور حکم ہے کہ جو خود کھاؤ وہی غلام کو دو اور جو خود پہنو دہی اُسے پہناؤ اور جو کام اس سے کراؤ اس میں خود برابر کے شریک ہو جاؤ، وجہ یہ ہے کہ غلام کا کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہے۔نہ وہ کہیں اپنی مرضی سے جاسکتا ہے۔نہ وہ اپنی مرضی سے کام چھوڑ سکتا ہے۔اور جو بھی وہ کھاتا ہے وہ مالک کے قبضہ میں چلا جاتا ہے۔عرض غلام کی پوزیشن اپنی غلامی کے دوران میں صفر کے برا یہ ہے۔اس لئے شریعیت نے اس کے لئے ایسے سلوک کا حکم فرمایا ہے جس کا اُوپر ذکر ہوا۔لیکن کسی رواج کسی شریعت کسی عقل نہ کسی گورنمنٹ نے یہ نہیں بتلایا کہ غلام اور ملازم دونوں کی ایک ہی پوزیشن ہے نو کر جس وقت چاہے نوکری چھوڑ سکتا ہے۔نوکر جو کام نہ کرنا چاہے اس کا انکار کر سکتا ہے۔نوکر تنخواہ لیتا ہے اور جہاں چاہے اپنا مال خرچ کر سکتا ہے۔اپنی تنخواہ میں سے میں قسم کا