مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 581
۵۸۰ ہاں آج رات واقعی مجھے یہ الہام ہوا ہے۔پس جس طرح حضرت عمر کا القاریاتی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی صورت میں ظاہر ہوا۔اسی طرح حضرت فضل عمر کا ردیا حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی وحی کی صورت میں نمودار ہوا یہ چوتھی ماثلت ہے۔پانچویں ماثلت یہ ہے کہ حضرت عمرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دنیا میں ان کے جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوجانے بھی حضرت فضل عمر کو اپنی اولاد میں ہونے کی وجہ سے جنت کی بشارت اسی دنیا میں دے دی۔جب آپ نے یہ فرمایا کہ مقبرہ بہشتی میں داخل ہونے کے لئے میری نسبت اور میرے اہل و میاں کی نسبت خدا نے استثنا رکھا ہے۔۔۔۔اور شکایت کرنے والا منافق ہو گا۔یعنی میری اولاد اور میری بیوی کو خدا تعالیٰ نے جنتی بنایا ہے۔اور مجھے ان کے بہشتی ہونے کی اطلاع اس کی طرف سے مل چکی ہے۔علاوہ ازیں مخصوص طور پر بھی حضور کے جنتی ہونے کی بشارت حضور کے تولد ہونے سے پہلے ہی ابہانا بنادی گئی تھی۔جیسے کہ فرمایا تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔یعنی بر خلاف قول مولوی مصری کے پسر موعود کا انجام اچھا ہوگا۔اور اس کی روح کا رفع آسمان کی طرف ہوگا۔اس موقع پر ایک ضمنی بات بیان کرنی ضروری ہے کہ پیغامی کہا کرتے ہیں کہ اداروں کے لئے تو یہ مقبر بہشتی تھا مگر مسیح موعود کے اہل وعیال کے لئے یہ خاندانی مقبرہ ہے کیونکہ ان کی طرف سے کوئی وصیت کی رقم داخل نہیں کی گئی۔اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ حضور نے مقبرہ کی بنیاد رکھنے کے وقت اپنی جائیداد میں سے اس وقت کے حساب سے ایک ہزار روپیہ کی زمین چندہ میں یعینی وصیت میں دی تھی۔حضور کو تو وصیت کی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ آپ کو تو فریقین با اتفاق رائے جنتی مانتے ہیں پس یہ ہزار روپے کی زمین حضور نے خود اپنے اہل و عیال ہی کی طرف سے دی تھی۔