مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 555 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 555

۵۵۴ اور لوگوں پر تبلیغ پوری ہو چکی تھی اور یہ ایک دن آنے والا باقی تھا سو آ گیا۔مگر وہ دن بھی خدا کا نشان ہو کہ آیا اور دور پیش گوئیوں کو پورا کر گیا یعنی ایک تو الہام انتقال کے متعلق الرحيل ثم الرحيل والا اور مباش این از بازی روزگار اور دوسرے ده پرانا اور بار بار ہونے والا الہام یعنی دانے ہجرت اور وطن کی جدائگی میں رحلت ہوگی۔غرض خدا کے بندے مرتے مرتے بھی اپنا خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت دے جاتے ہیں۔اور ان کی ذات تو ایسی تھی کہ ان کا مرنا جینا سب خدا کی مرضی اور اس کی فرمانبرداری ہیں تھا۔مگر ہم کو بھی جو پسماندگان میں رہ گئے ہیں۔ایسا ہی نمونہ دکھانا چاہیئے جس میں خدا تعالیٰ کی مرضی پر سر رکھ دینے اور راضی بقضا ہونے کی خود ہمارے دل گواہی دے دیں۔آپ مجھ سے بڑی ہیں اور سب باتوں میں مجھ سے زیادہ واقف ہیں اور مجھے ایسا لکھنے کی ضرورت کچھ نہیں مگر میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ اس ناگہانی حادثہ کا آپ کے دل پر کیا صدمہ ہوا ہو گا۔دنیا کی زندگی ایک تو خود چند روزہ ہے۔مگر ان چند روزہ میں بھی اس سرائے کے مسافر اس طرح تعلق پذیر ہو جاتے ہیں کہ جدائی کا دی ایک بڑا سخت دن ہوتا ہے اور جو اس سختی کو اللہ کی مرضی کے مطابق سہہ لیتا ہے وہ آئندہ اس سے بڑھ کر خوشی دیکھے گا مجھے خود بے حد رنج ہے کہ میں ایسی دور ایسے ایسے وقت پر پڑا ہوا ہوں۔علاوہ ازیں یہ کہ دریا کی طغیانی کے سبب راستے بہت مشکل اور قریباً مسدود ہیں۔آپ کی بھاوج بھی آنے کو تیار سمجھی ہیں۔عرضی رخصت کی گئی ہوئی ہے اگر منظور ہوئی تو حاضر خدمت ہوں گا۔ایک ہی ذات سب کا آسرا ہے۔اسی سے ہر وقت دُعا کرنی چاہیئے کہ وہ ہر مصیبت پر ثابت قدم رکھے اور اعلی درجہ کا نیک نمونہ آئندہ نسلوں کے لئے بنائے اور ہماری زندگی اور موت اسی ایمان پر ہو۔اور جس کی جدائی سے آج دل کو تپش سی لگی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ اور اس کے قدموں میں ہمارا حشر