مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 541 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 541

۵۴۰ میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکھوا لیا کرتے تھے مگر گریڈ کے اور دہی آپ کو پسند تھے۔بعدہ کھانے یعنی کباب مرغ پلاؤ یا اٹھے اور اسی طرح فرینی میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے۔جب ضعف معلوم ہوتا۔جن دنوں میں تصنیف کا کام کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی تو ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے۔اور وہ بھی کبھی ایک وقت ہی صرف اور دوسرے وقت دودھ وغیرہ سے گزارہ کر لیتے۔دودھ بالائی مکھن یہ اشیاء بلکہ بادام روفن تک صرف قوت کہ قیام اور ضعف کو دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں بعض لوگوں نے آپ کے کھانے پر اعتراض کئے ہیں۔مگر ان بیوقوفوں کو یہ خبر نہیں کہ ایک شخص جو عمر میں بوڑھا ہے اور اُسے کئی امراض گئے ہوئے ہیں اور یاد جودان کے وہ تمام جہان سے مصروف پیکار ہے۔ایک جماعت بنا رہا ہے جس کے فرد فرد پر اس کی نظر ہے۔اصلاح امت کے کام میں مشغول ہے۔ہر مذہب سے الگ الگ قسم کی جنگ ٹھنی ہوئی ہے۔دن رات تصانیف میں مصروف ہے جو نہ صرف اردو بلکہ فارسی اور عربی میں اور پھر وہی ان کو لکھتا اور وہی کاپی دیکھتا۔دہی پروف درست کرتا اور وہی ان کی اشاعت کا انتظام کرتا ہے پھر سینکڑوں مہمانوں کے شہر نے اتر نے اور علی حسب مراتب کھلانے کا انتظام مباحثات اور وفود کا اہتمام۔نمازوں کی حاضری مسجد میں روزانہ مجلسیں اور تقریریں۔ہر روز بیسیوں آدمیوں سے ملاقات۔اور پھر ان سے طرح طرح کی گفتگو مقدمات کی پیروی۔روزانہ سینکٹیں خطوط پڑھنے اور پھر ان میں سے بہتوں کے جواب لکھنے پھر گھر میں اپنے بچوں اور اہل بیت کو بھی وقت دیتا اور باہر گھر میں بیعت کا سلسلہ اور نصیحتیں اور دعائیں۔غرض اس قدر کام اور دماغی محنتیں اور تفکرات کے ہوتے ہوئے اور پھر تقاضائے عمر اور امراض کی وجہ سے اگر صرف اس عظیم الشان جہاد کے لئے قوت پیدا کرنے کو وہ شخص بادام روغن استعمال کر سے تو کون بیوقوف اور ناحق شناس ظالم طبع انسان ہے جو اس کے اس فعل پر اعتراض کرے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ بادام روغن کوئی مزیدار چیز نہیں اور لوگ لذت