مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 287
نومسلمہ کے لئے لمبا کوٹ اور ٹوپی اور ٹوپی میں نقاب لگ کر جلباب بن سکتا ہے۔سوائے امہات المومنین کے باقی سب شریف عورتوں کا اپنے گھروں کے اندر پیدہ یہ تیسرا پردہ ہے جو باہر جانے کا نہیں بلکہ گھروں کے اندر کرنے کا ہے اور یہ تمام عورتوں پر حاوی ہے۔سوائے امہات المومنین کے۔امہات المومنین اس لئے اس حکم سے باہر ہیں کہ ان کے لئے الگ احکام بیان ہوچکے ہیں اور ان کے گھر الگ الگ اپنے پنجے کے مملوکہ گھر تھے ان میں کوئی اور شریک نہ تھا نہ کسی کو وہاں آنے اور رہنے کی اجازت تھی) اس پردہ کا حکم یہ ہے کہ چونکہ ہر شخص کے متعلقین یا رشتہ دار اس کے گھر میں آتے رہتے ہیں اور اکثر جگہ لوگ مشترک مکانوں میں رہتے ہیں یا الگ مکان بھی ہو تو اس طرح بنے ہوتے ہیں کہ پوری علیحدگی نصیب نہیں ہو سکتی۔ایک ہی حویلی کے مختلف حصوں میں مختلف رشتہ دار یا قریبی رہتے ہیں۔یا کوٹھے پر ایک گھر رہتا ہے اور دوسرا نیچے پھر شہریت کی کی وجہ سے اکثر ایک دوسرے کے گھروں میں لابدی نظر پڑتی ہے۔اور غرباء میں تو یہ بات درجہ کمال کو پہنچی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ ایک چھت کے نیچے کئی کئی لوگ گزارہ کرتے ہیں۔اسی طرح زمیندار طبقہ میں۔غرض سوائے امراء اور رئیسوں کے ساری دنیا میں خواہ شہر کے لوگ ہوں یا گاؤں کے یہ حالت میسر نہیں آسکتی کہ ہر میاں بیوی کا بالکل الگ اور باپردہ مکان ہو اور ایسا ہو جہاں کسی کی نظر کسی وقت بھی نہ پڑ سکے۔یا جس میں کسی کے عزیز اور رشتہ دار یا نوکر کسی وقت بھی نہ آسکیں۔اس لئے شریعت نے لوگوں کی آسانی کے لئے یہ حکم دیا کہ ایسے حالات میں مرد اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور عورتیں اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور ہر طرح کی لیے جائی سے بچیں کوئی کلام وغیرہ بھی بے حیائی کا نہ کریں جو کسی کے کان میں پہنچے اور عورتوں کو