مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 212
۲۱۱ نہ کہ ظلم کی وجہ سے۔اسمائے الہی پر ہونے والے اعتراضات دور کرنے کے علاوہ ہماری جماعت کا کام ایک اور قسم کی تبیع بھی ہے۔وہ یہ کہ دیگر مذاہب والے اور غیر احمدی یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔کہ خداتعالی پہلے زمانہ میں تو کلام کیا کرتا تھا مگراب نعوذ باللہ گونگا ہو گیا ہے۔نہ اب الہام ہو سکتا ہے نہ دی۔گویا ایک بڑا بھاری تعلیق جو پہلے خدا کا انسان سے ہوا کرتا تھا۔وہ ٹوٹ گیا ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ دُعائیں قبول ہونے اور مطلب پورا کرنے کے لئے نہیں ہیں۔صرف ایک قسم کی عبادت ہیں۔اس عقیدہ سے جو کچھ رہا سہا واسطہ خدا اور انسان کے درمیان تھا وہ بھی جاتا رہا۔سو ان صفات کے متعلق اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود آپ پر سلامتی ہو نے اپنی مثال اور قرآنی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ خدا تعالیٰ پہلے جیسے لوگوں سے کلام کیا کرتا تھا اب بھی اسی طرح بلکہ آئندہ زمانہ میں بھی انسان سے کلام کرتا رہے گا۔اور دعائیں قبول کرنا یعنی مجیب ہونا بھی خدا تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔اگر دعا نہ ہو تو پھر انسان انسان نہیں بلکہ ایک حیوان ہے اور اس کا کوئی رابطہ اور تعلق ذات باری سے نہیں رہتا۔نہ اُسے کوئی خدا شناسی حاصل ہو سکتی ہے۔اور نہ اُسے خدا پر کوئی اعتماد اور بھروسہ ہو سکتا ہے۔نہ وہ کوئی خماس قائدہ بارگاہ الہی سے حاصل کر سکتا ہے۔پس یہ دو بڑی صفات یعنی کلام اور قبولیت دعا ایسی چیزیں ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود آپ پر سلامتی ہو نے دنیا پر ظاہر کر کے خدا تعالیٰ کو دو بڑے عیوب سے پاک ثابت کر کے دکھایا ہے۔اسم اعظم۔خدا تعالیٰ کا صرف ایک نام اس کا اسم معرفہ یا ذاتی نام ہے اور وہ اللہ ہے۔اور یہی اسم اعظم ہے۔باقی جتنے اسمار میں وہ صفاتی ہیں۔اللہ کا لفظ بذات خود کوئی معنے نہیں رکھتا۔ایک حدیث سبحان الله و بحمده سبحان اللہ العظیم سے یہ مطلب نبی ہوتا ہے کہ الہ