مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 189
I^^ والا بجبل سے پاک سراپا خیر۔جب چاہتا ہے اپنی تقدیر کو جاری کرتا ہے۔اور جب چاہتا ہے۔اُسے توڑ بھی دیتا ہے۔ہر چیز سوائے اس کی ذات کے فانی ہے۔کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے وجود پر گواہ۔اور اس کے خالق مالک تدریس اور محسن ہونے پر شاہد ہے۔جس کی عیادت بوجھ اور چھٹی نہیں۔بلکہ سراسر مسرور اور فائدہ ہے۔جگہ اور زمانہ روخ اور مادہ۔موت اور حیات نیز مخلوقات کے افعال۔خیالات اور ارادے سب اُسی کی مخلوق ہیں۔اس کی تمام صفات پسندیدہ اور ہر صفت مخلوق کے لئے سر تا سر فضل اور انعام ہے۔فالحمد لله رب العالمین۔اب ذرا غور کرو۔اور اپنے دل سے پوچھو کہ کیا تم ایسی ہستی کے بغیر گزارہ کر سکتے ہو؟ کیا تمہیں ایسے وجود کی ضرورت نہیں۔کیا ایسے سربریت کے بغیر خوشی اور اطمینان حاصل کر سکتے ہو۔کیا ایسی ذات کے سوا کسی اور پو پھر وسہ اور اعتماد کر سکتے ہو۔کیا اس کو چھوڑ کمرہ کوئی اور سہتی تمہارے علم میں ہے جو تمہاری سب کچھ ضرور توں۔ساری دلی خواہشوں اور آرزوؤں کو پوراکرنے کی طاقت رکھتی۔اور اس کا وعدہ کرتی ہو۔یا اس میں خدا تعالیٰ جیسی اعلیٰ اور فیض رساں صفات اور اخلاق ہوں۔اگر نہیں تو خوشی سے آؤ مجبوراً آؤ کرتا آؤ۔ضرور تا آؤ جس طرح ہو سکے آؤ۔اس لئے کہ تمہاری مسبب مرادی اور جذبات تمہاری بوگل ضروریات تمہاری جبکہ حاجات تمہارے سارے فوائد صرف ہی ایک دریا سے پورے ہو سکتے ہیں۔اور کسی دروازہ سے نہیں۔کیونکہ صرف رہی ہے۔جو لازوال دولت کا خرمات ہے۔سُبحَانَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةٍ عَمَّا يَصِفُونَ - وَسَلَامْ۔ترجمه تیرارب جو تمام برائیوں کا مالک ہے ، ان کی بیان کردہ باتوں سے پاک ہے اور رسولوں پر ہمیشہ سلامتی نازل ہوتی رہے گی۔