مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 170 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 170

149 کو مکمل کر دیا اور اسے الفضل میں چھپنے کے لئے بھیج دیا۔اس لیے پناہ محبت کا جو انہیں خدا تعالیٰ سے بھی اظہار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں : مجھ پہ اسے جان چھا گئے ہو تم دل میں میرے سما گئے ہو تم پھرتے رہتے ہو میری آنکھوں میں جب سے جلوہ دکھا گئے ہو تم کیا مزا آپ کو آتا تھا عبادت میں مری کیوں مجھے پچھلے پہر آپ جگا دیتے تھے کیوں مرے منہ سے سنا کرتے تھے اپنی تعریف کیوں مرے دل کو لگن اپنی لگا دیتے تھے لطف کیا تھا کہ پھنساتے تھے مصائب میں ادھر اور ادھر رغبت تسلیم درضا دیتے تھے نور عرقاں سے میرا سینہ منور کر کے پتے پتے میں مجھے اپنا پتہ دیتے تھے منعکس ہوتے تھے آئینہ عالم میں تمہی بوئے گل میں بھی مہک اپنی سنگھا دیتے تھے سالک راہ محبت کی نشسکی کے لئے آپ ہر ساز میں آواز سنا دیتے تھے