مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 167 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 167

194 آتے تھے میں تو بہ واستغفار کرتی تھی کہ خدایا میں نے نادانی میں بیوقوفی سے ایک بات کہہ ی تھی تو رحیم وکریم ہے تو حرف غلط کی طرح اس بات کو مٹا ہے۔عمر کے ساتھ ساتھ یہ دعا پڑھتی رہی اور میں خوف کھاتی رہی جب بھی وہ میرے گھر آتا تو میں اس کے لئے بہت دُعا کرتی۔اور جب مجھے دعا کی اصل حقیقت کا پتہ چلا تو میرے دل کو کچھ تسلی ہوئی وہ تو بہت بخشے والا ہے۔بے عقلی میں کی گئی بات کو ضرور انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ہمیشہ میں یہ دُعا کرتی رہی کہ اے خدا میرا باپ تیرا پیارا بندہ ہے۔تو اس کی کہی ہوئی اس بات کو نہ مان کہ یہ میرے سے بے وقوفی میں سرزد ہوئی تھی۔اوران دعاؤں کا عرصہ انسٹھ سال پر محید ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھیں کہ ہمارے گھر کے سارے کام ہماری والدہ کے بعد باری بڑی بہن سیدہ چھوٹی آپا کے ہاں ہوتے تھے۔این بیمار ہوا۔بیماری کل ایک ہفتہ کی تھی۔چھوٹی آپا خود بیمار ہیں میں نے کئی دفعہ کراچی جانے کا پروگرام بنایا لیکن ایک تو ہمت نہ ہوئی۔دوسرے وہی الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔آخر خدا تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور ہمارا بھائی ہم سے جدا ہو گیا۔اس وقت کراچی سے فون آیا کہ اسے میرے گھر میں نے کہ آرہے ہیں۔اس وقت وہ سارا واقعہ میرے ذہن میں پھر تازہ ہو گیا اور میری روح خدا تعالیٰ کے حضور جھک گئی کہ یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے میری ساری عمر کی دُعائیں سُن لیں اور مجھے معاف کر دیا۔لیکن دوسری طرف میر اسماعیل کی بات بھی رکھوں کہ وہ بھائی خصت میرے گھر سے ہی ہوا۔بلانے والا ہے سب سے پیارا ر روزنامه الفضل ربعه صفحه ۴ مورخه ۲ ستمبر ۱۱۹۹۸)