مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 126
۱۲۵ ایک نہیں بلکہ بلا مبالغہ ہزار ہا احباب آپ کی اس خوبی کا اعتراف کریں گے۔بے لوث طبیعت کی شملہ میں تو ایک ضرب المثل ہو گئی تھی۔ان کے ماتحت وہاں ایک سب اسٹنٹ سرین تھا۔جو مذہب شیعہ تھا۔اس نے مجھے کئی دفعہ کہا کہ میر صاحب نہایت متوکل انسان ہیں۔ان کی طبیعت میں لالچ بالکل نہیں۔چونکہ نیک دل خوش مزاج اور متقی اور پرہیز گار ہونے کے علاوہ ڈاکٹر بھی اعلیٰ درجہ کے ہیں۔اس لئے لوگ انہیں اکثر بیماری پر بلاتے ہیں۔اور کو قانونی اور سرکاری طور پہ 14 روپے فی معائنہ (VISIT ) فیس ملتی ہے مگر وہ پردا نہیں کرتے۔اور کئی دفعہ مجھے بھیج دیتے ہیں اور بیمار کی حالت معلوم کر کے اعلیٰ سے اعلیٰ نسخہ تجویز کرتے ہیں۔نیز آپ نے کئی اپنے خاص خاص نتھے جو ان کے تجربہ میں آچکے ہیں مجھے بتا دیئے ہیں جن کی وجہ سے میرے علم اور تجربہ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔اور میں نے دنیادی طور پر بھی بہت فائدہ اٹھایا ہے۔لیکن شملہ کی آب و ہوا امیر صاحب کے موافق نہیں تھی۔اور علاوہ اس کے اور بھی وجوہات تھیں۔جن کی وجہ سے آپ وہاں رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ایک وجہ یہ تھی کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہاں آپریشن کا موقعہ کم ملتا ہے۔کیونکہ یہاں کئی ڈاکٹر ہیںجو اپنے اپنے دائرہ عمل میں آپریشن کرتے ہیں۔اور میرے حقیہ میں کام کم آتا ہے جن کا یہ مطلب تھا۔کہ آپ قطر تا خلق خدا کو فائدہ پہنچانے کے متمنی تھے۔چنانچہ آپ نے جلدی وہاں سے تبدیلی کرالی پنشن لے کر آپ دارالامان میں آئے تو محض اس وجہ سے کہ آپ کی طبیعت میں کسی قسم کا دنیاوی لالچ نہیں تھا۔نہ آپ نے پریکٹس کی اور نہ ہسپتال میں کام کہ ناپسند کیا۔البتہ آپ دوستوں کی خدمت کے لئے ہر وقت آمادہ رہتے تھے میری داڑھ میں ایک وقعہ درد ہوا۔میں نے آپ سے ذکر کیا۔شام کا وقت تھا۔آپ اس وقت میرے ساتھ ہولئے۔اور ایک ڈاکٹر کی دکان سے مجھے ایک دوائی لے دی۔کہ آج اسے استعمال کر