مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 83
AV ہی زمین پر خدام کے ہمراہ تشریف فرما ہو گئے اور احجاب کو تنظیم کے ماتحت حضرت میر صاحب کا چہرہ آخری بار دیکھنے کا موقع دیا گیا۔آپ کا چہر، با وجود طویل علالت کے بہت با رونق شکفته اور تورانی نظر آتا تھا۔بعد ازاں جنازہ اٹھایا گیا۔حضرت صاحب ایدہ اللہ نے قبر تک تعش کو کندھا دیا۔حضور خود قبر میں اترے اور میر داد و احمد صاحب این حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور میر محمد احمد صاحب ابن حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے ہمراہ نعش کو لحد میں اتارا۔اس کے بعد حضور مزار حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) اور مزار حضرت اُم ظاہر پر دعا کے لئے تشریف لے گئے پھر حضرت میر حجاب کی قبر میں اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی۔قبر تیار ہو جانے پر حضور نے دعا فرمائی پھر واپس تشریف لے آئے۔حضرت میر صاحب کو مزار حضرت مسیح موعود د آپ پر سلامتی ہو) کے احاطہ میں آپ کی خواہش کے مطابق آپ کے والد ماجد حضرت میر ناصر نواب صاحب اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) اور والدہ ماجدہ حضرت نانی اماں اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کے پہلو میں مزار حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے قدموں میں دفن کیا گیا ہے حضرت میر صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) چوٹی کے بزرگ اور بلند پایہ رفیق تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا نے ملی معتمدین کا رکن مقرر فرمایا تھا۔ابتدا کے زمانہ سے ہی حضور کو نہایت قریب سے اور حضور کی مقدسی محبت سے فیوض حاصل کرنے کے خاص مواقع حاصل ہوتے رہے ہیں۔تصوف حقیقی اور عشق الہی کا ایک خاص رنگ پا یا جا تا تھا۔آپ کے مضامین اور آپ کی تعلیمی اسی رنگ کی بہترین یادگار ہیں۔اس کے علاوہ وسیع دینی اور دنیوی علم کے ساتھ بنی توع انسان کی بے غرضانہ خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہنا آپ کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔غرض آپ کا وجود سلسلے کی اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے ایک ستون کی طرح تھا۔آپ کی وفات ایک شدید قومی صدمہ ہے۔آپ کی وفات سے ایک ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پر ہوتا بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے۔