مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 715
۷۱۴ گزرے تھے کہ بہت مبارک کے دروازے سے کریمی مفتی فضل الرحمان صاحب نے حضرت امام ابن کو یکدم آواز دی کہ اماں جان یہ گئے گورداسپور کے میں لایا ہوں۔آج وہاں کسی مقدمے پر گیا تھا۔اور ابھی تانگے پر سیدھا آرہا ہوں۔یہ کہ کہ ایک پھاندی پونڈوں کی پردہ میں سے دھڑام کی کے اندر پھینک دی۔یہ کہہ کر وہ تو چلے گئے مگر ان پرندوں کا عند الطلب غیب سے آجانے کا لطف ہماری ساری پارٹی کو خوب آیا۔خصوصا جبکہ وہ اس خاص طرح آئے تھے۔اور شخص بطور دعوتِ خداوندی ان کو نہایت شوق سے کھاتا تھا۔بعض لوگ غلطی سے یہ بھی کہتے تھے کہ کاش کچھ اور چیز اس وقت مانگی جاتی۔حالانکہ خدا نے میں گئے نہیں کھلائے تھے۔بلکہ اپنے اسماء جمیع مجیب ، کلیم اور معطی کا جلوہ دکھایا تھا۔گویا گنوں کے پردہ میں خود کو ظاہر کیا تھا۔ایسے موقعہ پر یہ کہنا کہ کاش کوئی زیادہ قیمتی چیز ما لگتے تو مل جاتی ایک غلطی تھی۔کیونکہ خود خدا سے بڑھ کہ کون سی چیز قیمتی ہو سکتی ہے۔اب میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی پوزیشن ایسی واضح کر دی ہے کہ جو بات میں آگے بیان کرنے لگا ہوں۔اس سے کسی صاحب کو نہ تو میرے عقیدہ دُعا کے متعلق دھوکا لگے گا نہ اسے یہ خیال پیدا ہوگا کہ میں اللہ کی پناہ خدا کی کسی قسم کی سیکی کرنی چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفسوں کے شر سے محفوظ رکھے۔اب آپ ان نقائص کو دیکھئے جو ایسی باتوں یا ان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ا خدا کے فضل کا ذکر ضروری ہے۔آپ ان ساتوں صاحبان کی تقریہ پھر پڑھیں۔اور دیکھیں کہیں انہوں نے خدا کے فضل کا بھی نام لیا ہے۔دعا ہر حال بندے کی کوشش اور جدو جہد کا نام ہے۔اور اگر ہم لوگ رفتہ رفتہ ہر چیز کا انحصار دعاؤں پر ہی رکھ دیں گے۔اور خدا کے فضل کا لفظی اقرار ہمارے مونہوں سے نکلنا بند ہو جائے گا۔تو ہم رفتہ رفتہ ایک مشرکانہ رنگ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ہمارے لبوں سے سب سے زیادہ خدا کے فضل کا نام نکلنا چاہیے نہ کہ بندے کی کوششوں کا۔ہم کو انعالی کے براہ راست رحم پر اس